کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: عورتوں کے لیے ریشم اور دیباج پہننے اور انہیں بچھانے نیز سونے کے زیورات پہننے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 6110
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّصْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَا: ثنا شَيْبَانُ، ثنا جَرِيرٌ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ، ثنا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، وَكَانَ رَجُلًا يَغْشَى الْمُلُوكَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ: وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ". فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِحُلَّةٍ، وَبَعَثَ إِلَى أُسَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِحُلَّةٍ، وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حُلَّةً، فَقَالَ لَهُ: " شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ " فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا "، وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرًا عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ: مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ وَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دھاری دار جبہ بازار میں بکتا دیکھا۔ وہ ایسا آدمی تھا جو بادشاہوں کے پاس جاتا تھا اور ان سے چیزیں حاصل کرتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے عطارد کے پاس ایک دھاری دار جبہ دیکھا ہے۔ اگر آپ ﷺ اس کو وفود اور جمعہ کے لیے خرید لیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”ریشم دنیا میں وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ اس کے بعد نبی ﷺ کے پاس دھاری دار حلے لائے گئے تو نبی ﷺ نے ایک حلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا اور دوسرا سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ تیسرا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عطا کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی عورتوں کے درمیان تقسیم کر دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ حلہ اٹھائے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ آپ ﷺ نے یہ میری طرف بھیج دیا حالانکہ عطارد کے حلہ کے بارے میں آپ ﷺ نے کیا فرمایا تھا! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا۔ بلکہ آپ اس سے نفع حاصل کریں۔“ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اپنے حلے میں چلے تو نبی ﷺ نے دیکھا، سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ پہچان گئے کہ نبی ﷺ نے اچھا نہیں جانا۔ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے بھیجا ہے پھر بھی آپ ﷺ میری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ تو اپنی عورتوں کے درمیان اس کو تقسیم کر دے تاکہ وہ اس سے دوپٹہ بنا لیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 6110
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2068»
حدیث نمبر: 6111
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو الْفَيَّاضِ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزِّمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ أَخِي جُوَيْرِيَةَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ مِنْ حَرِيرٍ، ⦗٣٩٠⦘ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوِ ابْتَعْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَلَبِسْتَهَا لِلْوفُودِ وَلِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دھاری دار ریشمی حلہ دیکھا تو نبی کریم ﷺ سے کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ خرید لیں تو وفود اور جمعہ کے دن پہن لیا کریں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔“ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ایک حلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تو وہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے مجھے وہ پہنایا ہے جس کے متعلق کل آپ ﷺ نے یہ باتیں ارشاد فرمائی تھیں؟“ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے بھیجا تھا تاکہ بیچ دو یا اپنی عورتوں کو پہنا دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 6111
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 846»
حدیث نمبر: 6112
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُحِلَّ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ لِإِنَاثِ أُمَّتِي، وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے جائز ہے اور مردوں پر حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 6112
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ نسائي 5148»
حدیث نمبر: 6113
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ ثَوْبَانَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي رُقَيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مُخَلَّدٍ يَقُولُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: قُمْ فَأَخْبِرِ النَّاسَ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عُقْبَةُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَذِبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن ابی رقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ”اے عقبہ بن عامر! کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں کو بتاؤ جو آپ نے نبی ﷺ سے سنا ہے“، تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ”جو جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے“ اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”ریشم اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 6113
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ احمد 4/156»