کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول کہ امام ہر گروہ کو ایک رکعت پڑھائے اور وہ قضا (بقیہ رکعت پوری) نہ کریں
حدیث نمبر: 6046
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنِي الْأَشْعَثُ يَعْنِي: ابْنَ سُلَيْمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْحَنْظَلِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ: " أَيُّكُمْ شَهِدَ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: " أَنَا، فَقَامَ صَفٌّ خَلْفَهُ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّهِمْ، وَجَاءَ أُولَئِكِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ". وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ حُذَيْفَةُ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ صَفَّينِ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِي الْعَدُوِّ وَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَكَانِ هَؤُلَاءِ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا..
حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ بن زہدم حنظلی فرماتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں تھے تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم میں سے نمازِ خوف میں نبی ﷺ کے ساتھ کون تھا؟“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں، آپ ﷺ کے پیچھے ایک صف کھڑی ہوتی اور ایک صف دشمن کے مقابلہ میں تو آپ ﷺ ان کو ایک رکعت پڑھاتے۔ پھر وہ ان کی صف میں چلے جاتے۔ پھر وہ آتے تو نبی ﷺ ان کو ایک رکعت پڑھا دیتے، پھر ان کے ساتھ سلام پھیرتے۔“
حدیث نمبر: 6047
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ. كَذَا رَوَاهُ ثَعْلَبَةُ بْنُ زَهْدَمٍ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْهُ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ ⦗٣٧٢⦘ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَالَ لَهُمْ سَعِيدٌ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: " أَنَا، فَذَكَرَ صَلَاةً مِثْلَ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ. فَقَوْلُ الرَّاوِي فِي رِوَايَةِ ثَعْلَبَةَ: صَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ، يُرِيدُ بِهِ حَالَ السُّجُودِ، وَقَوْلُهُ: ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَكَانِ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ أُولَئِكَ يُرِيدُ بِهِ: تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَفِي ذَلِكَ قَضَاءُ الرَّكْعَتَيْنِ مَعَ الْإِمَامِ، فَلَا يَحْتَاجُونَ إِلَى قَضَاءِ شَيْءٍ بَعْدَهُ، وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي رِوَايَةِ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، وَتِلْكَ الْقِصَّةُ وَهَذِهِ وَاحِدَةٌ فَوَجَبَ حَمْلُ إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى مَعَ مَا فِيهِ مِنَ الِاتِّفَاقِ لِسَائِرِ الرِّوَايَاتِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سلیم بن عبد سلولی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں تھا تو سعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”کون ہے جو نبی ﷺ کے ساتھ نمازِ خوف میں حاضر تھا؟“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں حاضر تھا۔“ انھوں نے نبی ﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا جو عسفان میں پڑھی گئی۔ راوی ثعلبہ کی روایت میں فرماتے ہیں کہ دشمن کے مقابل صف سجدہ کی حالت میں مراد لیتے ہیں اور ان کی یہ بات کہ وہ ان کی جگہ پر چلے گئے تو اس سے مراد یہ ہے کہ آگے والی صف پیچھے آگئی اور پچھلی صف آگے چلی گئی پہلی رکعت سے فارغ ہونے کے بعد۔ اس طرح دونوں رکعات امام کے ساتھ ہوئیں، دوسری رکعت کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 6048
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي جَهْمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ، فَصَفَّ خَلْفَهُ صَفٌّ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلُّوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ". قَالَ سُفْيَانُ: " فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نمازِ خوف ذی قرد نامی جگہ میں پڑھائی۔ ایک صف آپ ﷺ کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے مقابل۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت نماز پڑھائی۔ پھر یہ صف دوسری صف کی جگہ چلی جاتی ہے۔ وہ آئے تو انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ ایک رکعت نماز پڑھی۔ پھر نبی ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا اور سفیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی دو رکعات ہو گئیں اور ہر گروہ کی ایک رکعت۔
حدیث نمبر: 6049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثٌ لَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِثْلَهُ: " " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِذِي قَرَدٍ بِطَائِفَةٍ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا وَبِطَائِفَةٍ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا فَكَانَتْ لِلْإِمَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ " ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا تَرَكْنَاهُ لِأَنَّ جَمِيعَ الْأَحَادِيثِ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ مُجْتَمِعَةٌ عَلَى أَنَّ عَلَى الْمَأْمُومِينَ مِنْ عَدَدِ الصَّلَاةِ مَا عَلَى الْإِمَامِ وَكَذَلِكَ أَصْلُ الْفَرْضِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّاسِ وَاحِدٌ فِي الْعَدَدِ، وَلَأَنَّهُ لَا يَثْبُتَ عِنْدَنَا مِثْلُهُ لِشَيْءٍ فِي بَعْضِ إِسْنَادِهِ " ". قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا حَدِيثٌ لَمْ يُخْرِجْهُ الْبُخَارِيُّ وَلَا مُسْلِمٌ فِي كِتَابَيْهِمَا، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ يَتَفَرَّدُ بِذَلِكَ هَكَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَقَدْ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَلَاتِهِ بِعُسْفَانَ، فَإِنَّ قَوْلَهُ: ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ أَرَادَ بِهِ فِي تَقَدُّمِ الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ وَتَأَخُّرِ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَقَدْ رَوَى الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ مَعَ ⦗٣٧٣⦘ اخْتِلَافٍ فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَقْتَ حِرَاسَةِ أَحَدِ الصَّفَّيْنِ. وَرَوَاهُ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ، وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ، وَعَلَى مِثْلِ ذَلِكَ يُحْمَلُ أَيْضًا.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم کے ہاں یہ حدیث ثابت نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے ذی قرد نامی جگہ پر ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، پھر انہوں نے سلام پھیرا، پھر دوسرے گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، پھر انہوں نے سلام پھیرا، اس طرح امام کے لیے دو رکعتیں اور ہر گروہ کی ایک رکعت ہوئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مقتدی پر اتنی ہی نمازِ خوف ہے جتنی امام پر، لیکن لوگوں پر اصل نماز جو خوف میں فرض ہے وہ ایک رکعت ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ «ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ» ”پھر یہ لوگ ان کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ آ گئے“ سے مراد یہ ہے کہ پہلی صف پیچھے آ جائے اور پچھلی صف آگے چلی جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مقتدی پر اتنی ہی نمازِ خوف ہے جتنی امام پر، لیکن لوگوں پر اصل نماز جو خوف میں فرض ہے وہ ایک رکعت ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ «ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ» ”پھر یہ لوگ ان کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ آ گئے“ سے مراد یہ ہے کہ پہلی صف پیچھے آ جائے اور پچھلی صف آگے چلی جائے۔
حدیث نمبر: 6050
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ: أَتَيْتُ فُلَانَ بْنَ وَدِيعَةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ، فَقَالَ: ايتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَيْتُ زَيْدًا فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَّ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِي الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن حسان فرماتے ہیں کہ میں فلاں بن ودیعہ کے پاس آیا تو میں نے ان سے نمازِ خوف کے بارے میں سوال کیا تو وہ فرمانے لگے: آپ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں اور ان سے سوال کریں۔ میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نمازِ خوف پڑھائی تو ایک صف آپ ﷺ کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے سامنے۔ آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر یہ دوسری صف کی جگہ پر چلے گئے اور وہ ان کی جگہ پر آگئے۔ آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 6051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمِّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَوْفَ فَأَمَرَ بِطَائِفَةٍ تَقُومُ فِي وَجْهِ الْعَدُوِّ، وَقَامَ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَةً فَلَمَّا سَجَدَ انْطَلَقَ الَّذِينَ صَلُّوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَامُوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَجَدُوا جَلَسَ فَسَلَّمَ بِهِمْ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِلَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ بِالَّذِينَ خَلْفَهُ سَلَّمَ الْآخَرُونَ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يَحْتَمِلُ مَا احْتَمَلَ حَدِيثُ حُذَيْفَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَيْدٍ فِي قَوْلِهِ: فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِلَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مِنْ جِهَةِ بَعْضِ الرُّوَاةِ قَبْلَ جَابِرٍ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ الْفَقِيرِ: أَنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَةً أُخْرَى، هَكَذَا قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَقَالَ: فَصَفَفْنَا صَفَّينِ. فَذَكَرَهُ بِلَفْظٍ مُحْتَمَلٍ لِلتَّأْوِيلِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، إِلَّا أَنَّ الْمَسْعُودِيَّ قَدْ رَوَاهُ مَرَّةً بِالزِّيَادَةِ، فَتْوَى مِنْ جِهَةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ يَمْنَعُ هَذَا التَّأْوِيلَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَذَلِكَ فِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی ﷺ کے ساتھ نمازِ خوف میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے ایک گروہ کو حکم دیا کہ وہ دشمن کے سامنے کھڑا ہو اور آپ ﷺ کھڑے ہوئے، ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھا دی۔ پھر وہ جنہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی ان کی جگہ چلے گئے اور وہ نبی ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی۔ جب انہوں نے سجدے کر لیے تو بیٹھ گئے، آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ رسول اللہ ﷺ کی دو رکعات اور آپ ﷺ کے پیچھے والوں کی ایک ایک رکعت ہوئی، جب انہوں نے سلام پھیرا جو آپ ﷺ کے پیچھے تھے تو دوسروں نے بھی سلام پھیرا۔
نوٹ: آپ ﷺ کی دو رکعات اور پیچھے والوں کی ایک ایک رکعت یہ بھی بعض راویوں کی جانب سے ہے، حالانکہ دوسری روایات میں ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی رکعت بعد میں مکمل کی ہے۔
نوٹ: آپ ﷺ کی دو رکعات اور پیچھے والوں کی ایک ایک رکعت یہ بھی بعض راویوں کی جانب سے ہے، حالانکہ دوسری روایات میں ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی رکعت بعد میں مکمل کی ہے۔
حدیث نمبر: 6052
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُهَيْبٍ الْفَقِيرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَقْصُرُهُمَا؟ قَالَ جَابِرٌ: " إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، إِنَّمَا الْقَصْرُ رَكْعَةٌ عِنْدَ الْقِتَالِ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ طَائِفَةٌ خَلْفَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وُجُوهُهَا قِبَلَ وُجُوهِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ الَّذِينَ صَلُّوا خَلْفَهُ انْطَلَقُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلُّوا خَلْفَ ⦗٣٧٤⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ فَسَلَّمَ وَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَسَلَّمُوا أُولَئِكَ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَةً رَكْعَةً، ثُمَّ قَرَأَ يَزِيدُ: {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: ١٠٢] ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ إِنْ كَانَ لَا يَحْتَمِلُ مَا ذَكَرْنَاهُ مِنَ التَّأْوِيلِ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ خَبَرًا عَنْ صَلَاتِهِ فِي الْغَدَاةِ الَّتِي وَصَفَ هُوَ وَغَيْرُهُ صَلَاتَهُ فِيهَا، وَأَنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَتَهُمُ الْبَاقِيَةَ، وَيَكُونُ فِي حُكْمِ شَيْءٍ أَثْبَتَهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ دُونَ بَعْضٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوْلِ الْمُثْبِتِ، وَالْأَصْلُ وَجُوبُ الْعَدَدِ حَتَّى يُثْبَتَ جَوَازُ النُّقْصَانِ عَنْهُ بِمَا لَا يَحْتَمِلُ التَّأْوِيلَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن صہیب فقیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا سفر میں دو رکعتوں میں قصر ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سفر میں دو رکعت میں قصر نہیں، لیکن قتال میں ایک رکعت قصر ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ لڑائی کے موقع پر نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور نماز کا وقت ہو گیا۔ نبی ﷺ کھڑے ہو گئے تو ایک گروہ نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور اس میں دو سجدے کیے۔ پھر وہ لوگ جنہوں نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تھی، دوسرے گروہ کی جگہ چلے گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا اور انہوں نے نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور اس میں دو سجدے کیے۔ پھر نبی ﷺ بیٹھ گئے اور سلام پھیرا۔ پھر ان لوگوں نے سلام پھیرا جو آپ ﷺ کے پیچھے تھے اور دوسروں نے بھی۔ رسول اللہ ﷺ کی دو رکعت اور لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
پھر یزید نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ [سورة النساء: 102] جب آپ ﷺ ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کیجیے۔
شیخ فرماتے ہیں: ممکن ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، یہ نبی ﷺ کی غزوہ میں نماز ہو، اسی طرح دوسروں نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک رکعت اپنے طور پر پڑھی۔ بہرحال اثبات کو لیا جائے گا۔
پھر یزید نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ [سورة النساء: 102] جب آپ ﷺ ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کیجیے۔
شیخ فرماتے ہیں: ممکن ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، یہ نبی ﷺ کی غزوہ میں نماز ہو، اسی طرح دوسروں نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک رکعت اپنے طور پر پڑھی۔ بہرحال اثبات کو لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6053
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَسْعُودٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ صَلَّى بِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَبِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ ". كَذَا أَتَى بِهِ سِمَاكٌ مُخْتَصَرًا، وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ سَالِمٍ وَنَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، وَالْحُكْمُ لِلْإِثْبَاتِ فِي مِثْلِ هَذَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نمازِ خوف ایک گروہ کو ایک رکعت اور دوسرے گروہ کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔
(ب) نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک ایک رکعت انہوں نے بذاتِ خود پڑھی۔
(ب) نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک ایک رکعت انہوں نے بذاتِ خود پڑھی۔
حدیث نمبر: 6054
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ الطَّائِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " " إِنَّ اللهَ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا فِي الْحَضَرِ وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً " "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کی زبانی تم پر حضر میں چار رکعات اور سفر میں دو رکعت اور خوف میں ایک رکعت فرض کی۔
حدیث نمبر: 6055
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ رَكْعَةً مَعَ الْإِمَامِ وَيَنْفَرِدُ بِرَكْعَةٍ أُخْرَى عَلَى قَوْلِ مَنْ يَرَى فَرْضَ الصَّلَاةِ فِي الْجَمَاعَةِ عَلَى الْأَعْيَانِ، وَفِي كَيْفِيَّةِ صَلَاةِ الْخَوْفِ فِي الْأَحَادِيثِ الثَّابِتَةِ مَعَ اخْتِلَافِ وُجُوهِهَا وَالِاتِّفَاقُ فِي عَدَدِهَا دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ. وَاللهُ أَعْلَمُ. وَذَهَبَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ إِلَى أَنَّ كُلَّ حَدِيثٍ وَرَدَ فِي أَبْوَابِ صَلَاةِ الْخَوْفِ فَالْعَمَلُ بِهِ جَائِزٌ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
اس میں احتمال ہے کہ ایک رکعت امام کے ساتھ اور دوسری رکعت اکیلے پڑھی؛ کیونکہ فرض نماز اپنی اصل پر ہی ہوتی ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ اور دوسرے محدثین کا کہنا ہے کہ نمازِ خوف کی جو صورتیں احادیث میں آئی ہیں، سب پر عمل جائز ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ اور دوسرے محدثین کا کہنا ہے کہ نمازِ خوف کی جو صورتیں احادیث میں آئی ہیں، سب پر عمل جائز ہے۔