کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے اس بارے میں کہا کہ امام دونوں گروہوں کو ایک ساتھ تکبیر کہلوائے، پھر ہر گروہ باری باری اپنی باقی ماندہ رکعت پوری کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ ⦗٣٧١⦘ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَفْنَا صَفَّينِ، صَفٌّ خَلْفَ، وَصَفٌّ مُوَاجِهَ الْعَدُوِّ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفَّينِ خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى مَقَامِ إِخْوَانِهِمْ، وَأَقْبَلَ الْآخَرُونَ يَتَخَلَّلُونَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلُّوا الَّذِينَ خَلْفَهُ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى مَصَافِّهِمْ، وَأَقْبَلَ الْآخَرُونَ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ". قَالَ خُصَيْفٌ: " وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْعَدُوِّ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ خُصَيْفٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: صَفٌّ خَلْفَهُ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ وَكُلٌّ فِي صَلَاةٍ. وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ خُصَيْفٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَكَبَّرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ الصَّفَّانِ جَمِيعًا ". وَهَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ، أَبُوعُبَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَاهُ، وَخَصِيفٌ الْجَزَرِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی تو ہم نے دو صفیں بنائیں۔ ایک صف آپ ﷺ کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے سامنے۔ رسول اللہ ﷺ نے دونوں صفوں کے ساتھ تکبیر کہی جو آپ ﷺ کے پیچھے تھیں، پھر آپ ﷺ نے اس صف کو جو آپ ﷺ کے پیچھے تھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے۔ پھر یہ اپنے دوسرے بھائیوں کی جگہ چلے گئے، دوسرے آئے اور آپ ﷺ کے ساتھ مل گئے تو آپ ﷺ نے ان کو ایک رکوع اور دو سجدے کروائے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا اور وہ لوگ جو آپ ﷺ کے پیچھے تھے، انہوں نے ایک رکعت نماز پڑھی۔ پھر وہ اپنی صف میں چلے گئے۔ پھر دوسرے آئے انہوں نے ایک رکعت پڑھی۔ خصیف فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دشمن اور قبلہ کے درمیان تھے۔ ثوری خصیف سے نقل فرماتے ہیں: ایک صف آپ ﷺ کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے سامنے تھی اور تمام لوگ نماز میں ہی ہوتے تھے۔ شریک خصیف سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تکبیر کہی تو دونوں صفوں نے آپ ﷺ کے ساتھ تکبیر کہی۔
یہ حدیث مرسل ہے، ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا، اور خصیف جزری قوی نہیں ہے۔
یہ حدیث مرسل ہے، ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا، اور خصیف جزری قوی نہیں ہے۔
" وَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ هَكَذَا، إِلَّا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ مَضَوْا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ". حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي " أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْخَوْفِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح نماز پڑھائی، مگر یہ کہ جس گروہ کو انہوں نے ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا تو وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلے گئے، اور یہ لوگ آئے اور انہوں نے خود ایک رکعت پڑھی، پھر وہ ان کی جگہ لوٹ گئے تو انہوں نے خود ایک رکعت پڑھی۔ حبیب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں جہاد کیا تو انہوں نے انہیں نمازِ خوف پڑھائی۔