السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: من قال في هذا: كبر بالطائفتين جميعا، ثم قضى كل طائفة ركعتها الباقية مناوبة باب: اس شخص کا قول جس نے اس بارے میں کہا کہ امام دونوں گروہوں کو ایک ساتھ تکبیر کہلوائے، پھر ہر گروہ باری باری اپنی باقی ماندہ رکعت پوری کرے
حدیث نمبر: 6045
" وَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ هَكَذَا، إِلَّا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ مَضَوْا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ". حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي " أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْخَوْفِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح نماز پڑھائی، مگر یہ کہ جس گروہ کو انہوں نے ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا تو وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلے گئے، اور یہ لوگ آئے اور انہوں نے خود ایک رکعت پڑھی، پھر وہ ان کی جگہ لوٹ گئے تو انہوں نے خود ایک رکعت پڑھی۔ حبیب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں جہاد کیا تو انہوں نے انہیں نمازِ خوف پڑھائی۔