کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نمازِ خوف کے ثبوت اور اس کے منسوخ نہ ہونے کی دلیل کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَشُغِلْنَا عَنْ صَلَوَاتٍ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِقَامَةً، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا} [البقرة: ٢٣٩] "..
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابوسعید اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خندق میں تھے۔ ہمیں نمازوں سے مصروف کر دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ہر نماز کے لیے اقامت پڑھیں اور یہ آیت ﴿فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾ [سورة البقرة: 239] ”اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل یا سوار ہو کر“ کے نازل ہونے سے قبل کی بات ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عُبَيْدٍ السَّلُولِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، وَكَانَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ سَعِيدٌ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: " أَنَا، مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَقُومُوا طَائِفَتَيْنِ، طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ خَلْفَكَ، فَتُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُونَ جَمِيعًا، وَتَرْكَعُ وَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، وَتُرْفَعُ وَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ، وَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَتَقُومُ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ قَامَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَلُونَكَ، وَخَرَّ الْأَخَرُونَ سُجَّدًا، ثُمَّ تَرْكَعُ وَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْفَعُ وَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، وَتَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى قَائِمَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، ثُمَّ تُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنْ هَاجَهُمْ هَيْجٌ فَقَدْ حَلَّ لَهُمُ الْقِتَالُ وَالْكَلَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیم بن عبد سلولی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں تھا، ان کے ساتھ نبی ﷺ کے صحابہ کا ایک گروہ تھا۔ سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ”آپ میں سے صلاۃ الخوف میں نبی ﷺ کے ساتھ کون حاضر تھا؟“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”میں (حاضر تھا)؛ اپنے ساتھیوں کو حکم دو کہ وہ گروہوں میں تقسیم ہو جائیں، ایک گروہ دشمن کے سامنے اور دوسرا گروہ تمہارے پیچھے، آپ تکبیر کہیں اور سب پیچھے والے بھی تکبیر کہیں، آپ رکوع کریں تو سب پیچھے والے بھی رکوع کریں اور جب آپ رکوع سے سر اٹھائیں تو پیچھے والے سب رکوع سے سر اٹھائیں۔ پھر آپ سجدہ کریں تو وہ گروہ جو آپ کے ساتھ ہے وہ بھی سجدہ کرے اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے، جب آپ سر اٹھائیں تو وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جو آپ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور دوسرے گروہ والے سجدہ کریں۔ پھر آپ رکوع کریں تو پیچھے والے سب رکوع کریں۔ پھر آپ سر اٹھائیں تو پیچھے والے بھی سر اٹھائیں۔ جب آپ سجدہ کریں تو وہ گروہ بھی سجدہ کرے جو آپ کے ساتھ ملا ہوا ہو اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے، جب آپ سجدے سے سر اٹھائیں تو وہ لوگ سجدہ کریں جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے۔ پھر آپ سلام پھیر دیں اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیں کہ اگر لڑائی بھڑک اٹھے تو ان کے لیے قتال اور کلام جائز ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي " أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْخَوْفِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالصمد بن حبیب اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر کابل کا غزوہ کیا تو انہوں نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْحَمَّالُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، ثنا حَكَّامٌ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: " صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بأَصْبَهَانَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ". . ⦗٣٥٩⦘ وَرَوَى حَطَّانُ الرَّقَاشِيُّ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ، وَيُذْكَرُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ صَلَاةَ الْخَوْفِ لَيْلَةَ الْهَرِيرِ، وَرُوِّينَا عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ عَلَّمَهُمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ، وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَصَفَهَا، وَالَّذِينَ رَوَوْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحْمِلْهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى تَخْصِيصِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا، أَوْ عَلَى أَنَّهَا تُرِكَتْ، بَلْ رَوَاهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَهُوَ يَعْتَقِدُ جَوَازَهَا عَلَى الصِّفَةِ الَّتِي رَوَاهَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو العالیہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اصبہان نامی جگہ نمازِ خوف پڑھائی۔
(ب) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہریرہ کی رات نمازِ خوف پڑھائی۔
(ج) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نمازِ خوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کا طریقہ بیان کیا۔
(ب) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہریرہ کی رات نمازِ خوف پڑھائی۔
(ج) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نمازِ خوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کا طریقہ بیان کیا۔