السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الدليل على ثبوت صلاة الخوف وأنها لم تنسخ باب: نمازِ خوف کے ثبوت اور اس کے منسوخ نہ ہونے کی دلیل کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عُبَيْدٍ السَّلُولِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، وَكَانَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ سَعِيدٌ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: " أَنَا، مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَقُومُوا طَائِفَتَيْنِ، طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ خَلْفَكَ، فَتُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُونَ جَمِيعًا، وَتَرْكَعُ وَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، وَتُرْفَعُ وَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ، وَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَتَقُومُ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ قَامَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَلُونَكَ، وَخَرَّ الْأَخَرُونَ سُجَّدًا، ثُمَّ تَرْكَعُ وَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْفَعُ وَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، وَتَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى قَائِمَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، ثُمَّ تُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنْ هَاجَهُمْ هَيْجٌ فَقَدْ حَلَّ لَهُمُ الْقِتَالُ وَالْكَلَامِ ".سلیم بن عبد سلولی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں تھا، ان کے ساتھ نبی ﷺ کے صحابہ کا ایک گروہ تھا۔ سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ”آپ میں سے صلاۃ الخوف میں نبی ﷺ کے ساتھ کون حاضر تھا؟“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”میں (حاضر تھا)؛ اپنے ساتھیوں کو حکم دو کہ وہ گروہوں میں تقسیم ہو جائیں، ایک گروہ دشمن کے سامنے اور دوسرا گروہ تمہارے پیچھے، آپ تکبیر کہیں اور سب پیچھے والے بھی تکبیر کہیں، آپ رکوع کریں تو سب پیچھے والے بھی رکوع کریں اور جب آپ رکوع سے سر اٹھائیں تو پیچھے والے سب رکوع سے سر اٹھائیں۔ پھر آپ سجدہ کریں تو وہ گروہ جو آپ کے ساتھ ہے وہ بھی سجدہ کرے اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے، جب آپ سر اٹھائیں تو وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جو آپ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور دوسرے گروہ والے سجدہ کریں۔ پھر آپ رکوع کریں تو پیچھے والے سب رکوع کریں۔ پھر آپ سر اٹھائیں تو پیچھے والے بھی سر اٹھائیں۔ جب آپ سجدہ کریں تو وہ گروہ بھی سجدہ کرے جو آپ کے ساتھ ملا ہوا ہو اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے، جب آپ سجدے سے سر اٹھائیں تو وہ لوگ سجدہ کریں جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے۔ پھر آپ سلام پھیر دیں اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیں کہ اگر لڑائی بھڑک اٹھے تو ان کے لیے قتال اور کلام جائز ہے۔“