السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الدليل على ثبوت صلاة الخوف وأنها لم تنسخ باب: نمازِ خوف کے ثبوت اور اس کے منسوخ نہ ہونے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 6005
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَشُغِلْنَا عَنْ صَلَوَاتٍ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِقَامَةً، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا} [البقرة: ٢٣٩] "..حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابوسعید اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خندق میں تھے۔ ہمیں نمازوں سے مصروف کر دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ہر نماز کے لیے اقامت پڑھیں اور یہ آیت ﴿فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾ [سورة البقرة: 239] ”اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل یا سوار ہو کر“ کے نازل ہونے سے قبل کی بات ہے۔