کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: یمنی دھاری دار چادروں اور ان کپڑوں کے مستحب ہونے کا بیان جن کا سوت رنگا گیا ہو اور بننے کے بعد انہیں رنگا نہ گیا ہو
حدیث نمبر: 5970
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُدْبَةُ قَالُوا: ثنا هَمَّامٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، وَهِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: أِيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَ؟ قَالَ: " الْحِبَرَةُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرٍو بْنِ عَاصِمٍ عَنْ هَمَّامٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَدَّاب /٦٣ ٍ وَهُوَ هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کون سا لباس نبی ﷺ کو زیادہ محبوب اور پسند تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”دھاری دار کپڑا۔“
حدیث نمبر: 5971
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ، فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنَّ هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ، فَلَا تَلْبَسْهَا ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے اوپر دو زرد رنگ کے کپڑے دیکھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! یہ کفار کے کپڑے ہیں، تم ان کو نہ پہنو۔“
حدیث نمبر: 5972
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْروِ بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ:. هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَلَاتِهِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِعُصْفُرٍ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الرَّيْطَةُ عَلَيْكَ؟ ". فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَهُمْ فَقَذَفْتُهَا فِيهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الْغَدَ، فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللهِ، مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ؟ ". فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " أَفَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ؛ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ لِلنِّسَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ شنیہ وادی میں اترے۔ پھر انہوں نے اپنی نماز والی حدیث ذکر کی کہ آپ نے میری طرف دیکھا، میرے اوپر زرد رنگ کی چادر تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیسی چادر اوڑھ رکھی ہے؟“ میں آپ ﷺ کی ناراضگی کو جان گیا۔ میں اپنے گھر آیا، وہ تنور جلا رہے تھے۔ میں نے وہ چادر تنور میں ڈال دی۔ پھر میں صبح آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! تو نے چادر کا کیا کیا؟“ میں نے آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو پہنا دیتے، اس میں کوئی حرج نہ تھا۔“