حدیث نمبر: 5920
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: " مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا، وَقَدْ وَضَعَتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي، وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي، فَقَالَ: " أَتَقْعُدُ قَعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ". لَفْظُ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي مُتَّكِئًا عَلَى أَلْيَةِ يَدِي، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ الْقَاسِمُ: أَلْيَةُ الْكَفِّ أَصْلُ الْإِبْهَامِ وَمَا تَحْتَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ ﷺ گزرے اور میں اسی طرح بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنا الٹا ہاتھ کمر کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور میں اپنے ہاتھ کے ذریعے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو مغضوب علیہ لوگوں کی طرح بیٹھا ہوا ہے؟“
(ب) عبدالوہاب کی روایت میں ہے کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور اپنا الٹا ہاتھ اپنی کمر کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور اپنے ہاتھ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھا۔
قاسم فرماتے ہیں: ہتھیلی کی پشت سے مراد انگوٹھا اور اس کے نیچے والا ابھرا ہوا گوشت ہے۔
(ب) عبدالوہاب کی روایت میں ہے کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور اپنا الٹا ہاتھ اپنی کمر کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور اپنے ہاتھ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھا۔
قاسم فرماتے ہیں: ہتھیلی کی پشت سے مراد انگوٹھا اور اس کے نیچے والا ابھرا ہوا گوشت ہے۔