کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس دلیل کا بیان جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے خطبے میں دعا کرے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ قَالَ: رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَافِعًا يَدَيْهِ، فَقَالَ: " قَبَّحَ اللهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الْمُسَبِّحَةِ ". ⦗٢٩٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے بشر بن مروان کو دیکھا، وہ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، کہنے لگے: اللہ ان دونوں ہاتھوں کا برا کرے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، وہ اس سے زائد نہیں کرتے تھے اور اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ أَنَّهُ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا، قَالَ: وَشَتَمَهُ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَزِيدُ عَلَى هَذَا، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَابَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر جمعہ کے دن دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اس کی طرف دیکھو! اور اسے برا بھلا کہا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، آپ اس سے زیادہ نہیں کرتے تھے اور اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرِهِ وَلَا عَلَى غَيْرِهِ، وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِالسَّبَابَةِ وَعَقَدَ الْوُسْطَى بِالْإِبْهَامِ ". وَالْقَصْدُ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ إِثْبَاتُ الدُّعَاءِ فِي الْخُطْبَةِ، ثُمَّ فِيهِ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا يَرْفَعَ يَدَيْهِ فِي حَالِ الدُّعَاءِ فِي الْخُطْبَةِ وَيَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يُشِيرَ بِأُصْبُعِهِ. وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ مَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا وَذَلِكَ حِينَ اسْتَسْقَى فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابن ابی ذباب، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے منبر پر یا منبر کے علاوہ دعا کرتے ہوئے اپنے ہاتھ بلند کیے ہوں بلکہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس طرح کرتے تھے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا، وسطیٰ اور انگوٹھے کی گرہ لگائی۔
(ب) دونوں احادیث کا مقصد خطبہ میں دعا کا ثبوت اور یہ سنت ہے، لیکن خطبہ کے دوران اشارہ کرنا ہے، ہاتھوں کو نہیں اٹھانا۔
(ج) انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ بلند نہیں کیے۔ صرف بارش کی طلب کے لیے تو آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی۔
(د) زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تو دعا کے لیے انگلی کا اشارہ فرماتے اور لوگ آمین کہتے۔
(ب) دونوں احادیث کا مقصد خطبہ میں دعا کا ثبوت اور یہ سنت ہے، لیکن خطبہ کے دوران اشارہ کرنا ہے، ہاتھوں کو نہیں اٹھانا۔
(ج) انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ بلند نہیں کیے۔ صرف بارش کی طلب کے لیے تو آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی۔
(د) زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تو دعا کے لیے انگلی کا اشارہ فرماتے اور لوگ آمین کہتے۔