السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يستدل به على أنه يدعو في خطبته باب: اس دلیل کا بیان جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے خطبے میں دعا کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرِهِ وَلَا عَلَى غَيْرِهِ، وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِالسَّبَابَةِ وَعَقَدَ الْوُسْطَى بِالْإِبْهَامِ ". وَالْقَصْدُ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ إِثْبَاتُ الدُّعَاءِ فِي الْخُطْبَةِ، ثُمَّ فِيهِ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا يَرْفَعَ يَدَيْهِ فِي حَالِ الدُّعَاءِ فِي الْخُطْبَةِ وَيَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يُشِيرَ بِأُصْبُعِهِ. وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ مَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا وَذَلِكَ حِينَ اسْتَسْقَى فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ ".(الف) ابن ابی ذباب، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے منبر پر یا منبر کے علاوہ دعا کرتے ہوئے اپنے ہاتھ بلند کیے ہوں بلکہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس طرح کرتے تھے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا، وسطیٰ اور انگوٹھے کی گرہ لگائی۔
(ب) دونوں احادیث کا مقصد خطبہ میں دعا کا ثبوت اور یہ سنت ہے، لیکن خطبہ کے دوران اشارہ کرنا ہے، ہاتھوں کو نہیں اٹھانا۔
(ج) انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ بلند نہیں کیے۔ صرف بارش کی طلب کے لیے تو آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی۔
(د) زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تو دعا کے لیے انگلی کا اشارہ فرماتے اور لوگ آمین کہتے۔