أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَكَمِ يَخْطُبُ قَاعِدًا، فَقَالَ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١] ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَغَيْرِهِ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عبید، کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے اور عبد الرحمن بن حکم بیٹھ کر خطبہ دے رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: دیکھو اس خبیث کی طرف، بیٹھ کر خطبہ دیتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ [سورة الجمعة: 11] اور جب انہوں نے تجارتی قافلہ دیکھا یا کھیل تو اس کی طرف چل دیے اور انہوں نے آپ ﷺ کو کھڑا ہوا چھوڑ دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنَ الشَّامِ فَانْتَقَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١] ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن ابی جعد جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے۔ ایک قافلہ شام سے آیا، لوگ اس کی طرف چلے گئے اور آپ ﷺ کے ساتھ صرف 12 آدمی رہ گئے تو یہ آیت نازل کی گئی: ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ [سورة الجمعة: 11] اور جب وہ تجارتی قافلہ دیکھتے ہیں یا کھیل تو اس کی جانب پلٹ جاتے ہیں اور آپ ﷺ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ قَالَ: نَبَّأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہو کر خطبۂ جمعہ ارشاد فرماتے تھے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر (دوسرا) خطبہ ارشاد فرماتے۔ جو آپ کو خبر دے کہ آپ ﷺ بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے وہ جھوٹ بولتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ ﷺ کے ساتھ دو ہزار سے زائد نمازیں پڑھی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ أَحْدَثَ الْقُعُودَ عَلَى الْمِنْبَرِ مُعَاوِيَةُ ". قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ: يُحْتَمَلُ أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ قَعَدَ لِضَعْفٍ لِكِبَرٍ أَوْ مَرَضٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حصین فرماتے ہیں: میں نے شعبی سے سنا کہ سب سے پہلے منبر پر بیٹھنے کی ابتدا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کی۔
شیخ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے ایسا کیا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے ایسا کیا۔