کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس اثر کا تذکرہ جو مروی ہے کہ بلا عذر نمازوں کو جمع کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، نیز اس کی تائید جو نمازوں کے اوقات کی احادیث سے ہوتی ہے
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " جَمْعُ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ مِنَ الْكَبَائِرِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي سُنَنِ حَرْمَلَةَ: الْعُذْرُ يَكُونُ بِالسَّفَرِ وَالْمَطَرِ، وَلَيْسَ هَذَا بِثَابِتٍ عَنْ عُمَرَ، هُوَ مُرْسَلٌ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ، وَالْإِسْنَادُ الْمَشْهُورُ لِهَذَا الْأَثَرِ مَا ذَكَرْنَا وَهُوَ مُرْسَلٌ، أَبُو الْعَالِيَةِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ قَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ إِلَى مَتْنِهِ فِي بَعْضِ كُتُبِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو العالیہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بغیر عذر کے جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عذر سفر اور بارش ہے، لیکن یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے، یہ مرسل ہے۔
بات ویسے ہی ہے جیسے امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمائی، اس اثر کی مشہور سند وہی ہے جو ہم نے ذکر کی اور وہ مرسل ہے، ابو العالیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5559
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن أبي شيبه 8253»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٢٤١⦘ الْحَسَنِ الرَّمْجَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صُبَيْحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ يَعْنِي الْعَدَوِيَّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى عَامِلٍ لَهُ: " ثَلَاثٌ مِنَ الْكَبَائِرِ: الْجَمْعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ إِلَّا فِي عُذْرٍ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَالنَّهْيُ ". أَبُو قَتَادَةَ الْعَدَوِيُّ أَدْرَكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ شَهِدَهُ كَتَبَ فَهُوَ مَوْصُولٌ، وَإِلَّا فَهُوَ إِذَا انْضَمَّ إِلَى الْأَوَّلِ صَارَ قَوِيًّا، وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مَوْصُولٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو قتادہ عدوی رحمہ اللہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک عامل کو لکھا: ”تین چیزیں کبیرہ گناہ ہیں: بغیر عذر کے نمازوں کو جمع کرنا، لڑائی سے بھاگ جانا اور ڈاکہ ڈالنا۔“
ابو قتادہ عدوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے، اگر وہ ان کے لکھتے وقت موجود تھے تو یہ روایت موصول ہے، ورنہ پہلی روایت کے ساتھ مل کر یہ قوی ہو جاتی ہے۔ اس بارے میں نبی ﷺ سے ایک موصول حدیث بھی مروی ہے جس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5560
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ عبد الرزاق 2035»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَمْعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ مِنَ الْكَبَائِرِ ". لَفْظُ حَدِيثِ نُعَيْمٍ، وَفِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ ". تَفَرَّدَ بِهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ الْمَعْرُوفُ بِحَنَشٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ النَّقْلِ، لَا يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بغیر عذر کے نمازوں کو جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے۔“
(ب) یعقوب کی روایت میں ہے کہ ”جس نے دو نمازوں کو بغیر عذر کے جمع کیا تو وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہوا۔“
اسے صرف حسین بن قیس ابو علی رحبی نے روایت کیا ہے جو حنش کے نام سے معروف ہیں، وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ان کی روایت سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5561
درجۂ حدیث محدثین: باطل
تخریج حدیث «باطل۔ ابو يعلٰي 2751»