أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ رَائِطَةَ الْحَنَفِيَّةِ، " أَنَّ عَائِشَةَ أَمَّتْ نِسْوَةً فِي الْمَكْتُوبَةِ فَأَمَّتْهُنَّ بَيْنَهُنَّ وَسَطًا ".
حافظ ثناء اللہ
میسرہ ابو حازم، رائطہ حنفیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرض نمازوں میں عورتوں کی امامت کروائی تو وہ ان کے درمیان میں کھڑی ہوئیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا كَانَتْ تُؤَذِّنُ وَتُقِيمُ وَتَؤُمُّ النِّسَاءَ، وَتَقُومُ وَسَطَهُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اذان دیتیں، اقامت کہتیں اور عورتوں کی امامت کرواتیں اور ان کے درمیان میں کھڑی ہوتیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا حُجَيْرَةُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ " أَنَّهَا أَمَّتْهُنَّ فَقَامَتْ وَسَطًا ".
حافظ ثناء اللہ
عمار دہنی اپنی قوم کی ایک عورت سے نقل کرتے ہیں، جس کو حجیرہ کہا جاتا تھا اور وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے ہماری امامت کروائی تو وہ درمیان میں کھڑی تھیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي يَحْيَى يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " تَؤُمُّ الْمَرْأَةُ النِّسَاءَ تَقُومُ وَسَطَهُنَّ ". وَقَدْ رُوِّينَا فِيهِ حَدِيثًا مُسْنَدًا فِي بَابِ الْأَذَانِ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عورت عورتوں کی امامت کروائے تو ان کے درمیان میں کھڑی ہو۔
اس بارے میں ہم نے باب الاذان میں ایک مسند حدیث روایت کی ہے، اور اس میں ضعف ہے۔
اس بارے میں ہم نے باب الاذان میں ایک مسند حدیث روایت کی ہے، اور اس میں ضعف ہے۔