السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المرأة تؤم النساء فتقوم وسطهن باب: عورت عورتوں کی امامت کرائے تو ان کے درمیان کھڑی ہو
حدیث نمبر: 5357
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا حُجَيْرَةُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ " أَنَّهَا أَمَّتْهُنَّ فَقَامَتْ وَسَطًا ".حافظ ثناء اللہ
عمار دہنی اپنی قوم کی ایک عورت سے نقل کرتے ہیں، جس کو حجیرہ کہا جاتا تھا اور وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے ہماری امامت کروائی تو وہ درمیان میں کھڑی تھیں۔