کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے متعلق جو مروی ہے جو لوگوں کی امامت کرائے درآں حالیکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں
حدیث نمبر: 5339
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗١٨٣⦘ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُمْ صَلَاةً: مَنْ يَؤُمُّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا قَالَ: وَالدِّبَارُ أَنْ يَأْتِيَ بِهَا بَعْدَ فَوْتِ الْوَقْتِ، وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَهُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْإِمَامَةِ فِي هَذَا الْبَابِ: يُقَالُ: لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَلَا صَلَاةُ امْرَأَةٍ وَزَوْجُهَا عَاتِبٌ عَلَيْهَا، وَلَا عَبْدٌ آبِقٌ حَتَّى يَرْجِعَ، وَلَمْ أَحْفَظْهُ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِثْلَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْمَعْنَى إِنَّمَا يُرْوَى بِإِسْنَادَيْنِ ضَعِيفَيْنِ أَحَدُهُمَا مُرْسَلٌ وَالْآخَرُ مَوْصُولٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین بندوں کی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتے: ایسا امام جس کو قوم ناپسند کرتی ہو، ایسا آدمی جو نماز کا وقت ختم ہونے کے بعد نماز پڑھے اور ایسا آدمی جس نے آزاد کو غلام بنا دیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسا بندہ جو امام بنا ہوا ہے لیکن قوم اسے ناپسند کرتی ہے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، ایسی عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہو، بھاگا ہوا غلام جب تک واپس نہ لوٹے اور فرمایا: مجھے وہ علت اور وجہ یاد نہیں جس کی بنا پر اہل علم اس حدیث کو ثابت کرتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسا بندہ جو امام بنا ہوا ہے لیکن قوم اسے ناپسند کرتی ہے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، ایسی عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہو، بھاگا ہوا غلام جب تک واپس نہ لوٹے اور فرمایا: مجھے وہ علت اور وجہ یاد نہیں جس کی بنا پر اہل علم اس حدیث کو ثابت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5340
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ رُءَوْسَهُمْ: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا سَاخِطٌ عَلَيْهَا، وَمَمْلُوكٌ فَرَّ مِنْ مَوْلَاهُ "..
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن کی نمازیں ان کے سروں سے آگے نہیں گزرتیں: ایسا امام جس کو قوم ناپسند کرتی ہو اور ایسی عورت جو رات گزارتی ہے اور اس کا خاوند اس پر ناراض ہوتا ہے اور ایسا غلام جو اپنے آقا سے بھاگا ہوا ہے۔“
حدیث نمبر: 5341
وَبِإِسْنَادِهِمَا ثنا بَقِيَّةُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ. وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ أَمْثَلُ مِنْ هَذَا وَإِنْ كَانَ غَيْرَ قَوِيٍّ أَيْضًا، وَالْمَحْفُوظُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ مَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو سعید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اس جیسی حدیث نقل فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5342
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ: عَبْدٌ آبِقٌ مِنْ سَيِّدِهِ حَتَّى يَأْتِيَ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ، وَامْرَأَةٌ بَاتَ زَوْجُهَا غَضْبَانُ عَلَيْهَا، وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ ". وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَرُوِيَ فِي الْإِمَامَةِ وَالْمَرْأَةِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُهُ.
حافظ ثناء اللہ
معمر رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ وہ مرفوع ہی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین بندے ایسے ہیں کہ ان کی نمازیں ان کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتیں: اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام یہاں تک کہ وہ اپنے آقا کے پاس واپس آ جائے، ایسی عورت کہ اس کا خاوند اس حال میں رات گزارے کہ اس پر ناراض ہو، اور ایسا امام جس کو قوم ناپسند کرتی ہو۔“