کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام کی بات سننا اور ماننا جب تک کہ وہ کسی نافرمانی کا حکم نہ دے جیسے نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا اور دیگر امور
حدیث نمبر: 5334
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ⦗١٨٢⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ "..
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اطاعت ہر مسلمان پر لازم ہے جس کو وہ پسند ہو یا نہ ہو جب تک نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، جب نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اطاعت واجب نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 5335
وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ " مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح حدیث ذکر کی ہے، فرماتے ہیں: ”جب تک اسے نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 5336
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ قَوْمٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ، وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا "، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَدْرَكْتُهُمْ؟ قَالَ: " يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللهَ " قَالَهَا ثَلَاثًا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”عنقریب ایسی قوم تمہارے کاموں کی والی بن جائے گی جو سنت کو ختم کریں گے اور بدعات کو جاری کریں گے اور نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کریں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ان کو پالوں تو کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام عبد کے بیٹے! اس کی اطاعت واجب نہیں جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔
حدیث نمبر: 5337
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ إِيَاسٍ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُ مْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ لِلْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ، ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم ایسی اقوام کو پالو جو نمازوں کو مؤخر کر کے پڑھیں گی۔ اگر تم ایسے لوگوں کو پالو تو تم نماز اپنے گھروں میں وقت پر پڑھ لو، جس وقت کو تم پہچانتے ہو۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھ لو اور اس کو نفل بنا لو۔“
حدیث نمبر: 5338
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَبُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَفَعَهُ قَالَ: ضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ "، ثُمَّ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ اخْرُجْ فَإِنْ كُنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ مُسْنَدًا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے میری ران پر ہاتھ مارا اور پوچھا: ”تیری کیا حالت ہو گی جب تو ایسی قوم میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے؟“ پھر فرمایا: ”نماز اس کے وقت میں پڑھ، پھر نکل، اگر تو مسجد میں ہو اور اقامت کہہ دی جائے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ۔“