کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام نماز کو مؤخر کرے اور لوگ اس کے رعب و دبدبے سے ڈرتے ہوں
حدیث نمبر: 5315
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ أَوْ قَالَ: يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا " قَالَ: قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ؛ فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن صامت، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس وقت کیا کرو گے جب امیر تم پر نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کریں گے؟“ یا فرمایا: ”نمازوں کا وقت نکال دیا کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: آپ ﷺ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھو، اگر ان کے ساتھ نماز کو پالو تو وہ نماز تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 5316
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ وَهُوَ دُحَيْمٌ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْيَمَنَ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا قَالَ: فَسَمِعْتُ تَكْبِيرَهُ مَعَ الْفَجْرِ بِرَجُلٍ أَجَشِّ الصَّوْتِ، قَالَ: قَالَ: فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى دَفَنْتُهُ بِالشَّامِ مَيِّتًا، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَلَزِمْتُهُ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ بِغَيْرِ وَقْتِهَا؟ " ⦗١٧٨⦘ قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا، وَاجْعَلْ صَلَاتَكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون اودی فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے قاصد بن کر یمن آئے۔ میں نے ان کی تکبیر نماز فجر میں سنی، ایک شخص بلند آواز سے ڈکار لے رہا تھا۔ میری محبت اس کے دل میں گھر کر گئی، میں اس سے جدا نہیں ہوا یہاں تک کہ ملک شام میں میں نے اس کو دفن کیا۔ پھر میں نے تمام لوگوں سے زیادہ فقیہ اس کے بعد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پایا، میں ان کے پاس آگیا۔ میں ان کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کرو گے اس وقت جب امراء نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر کے پڑھیں گے؟“ میں نے کہا: آپ ﷺ مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر میں اس وقت کو پالوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اپنے وقت پر پڑھ اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لے۔“