کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام نماز کو مؤخر کرے اور لوگ اس (کے تسلط) سے نہ ڈرتے ہوں
حدیث نمبر: 5313
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ أَخَّرَ ⦗١٧٧⦘ الصَّلَاةَ بِالْكُوفَةِ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ فَسَمْعٌ وَطَاعَةٌ؟ أَمِ ابْتَدَعْتَ الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: لَمْ يَأْتِنَا مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ، وَمَعَاذَ اللهِ أَنْ أَكُونَ ابْتَدَعْتُ، أَبَى الله عَلَيْنَا وَرَسُولُهُ أَنْ نَنْتَظِرَكَ فِي صَلَاتِنَا وَنَتَّبِعَ حَاجَتَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ولید بن عقبہ نے کوفہ میں نماز کو مؤخر کر دیا اور میں اپنے والد کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، تکبیر کہی اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ کو اس پر کس چیز نے ابھارا؟ کیا امیر المؤمنین کی جانب سے کوئی اطاعت کا حکم آیا یا آپ نے اپنی جانب سے اس کی ابتدا کی ہے؟ کہنے لگے: نہ تو امیر المؤمنین کی جانب سے کوئی حکم آیا اور نہ ہی میں نے بدعت جاری کی ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس بات سے منع کرتے ہیں کہ ہم اپنی نمازوں میں تمہارا انتظار کریں اور تم اپنے کاموں میں مصروف رہو۔
حدیث نمبر: 5314
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ الْأَزْرَقِيُّ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، وَيُحْدِثُونَ الْبِدْعَةَ "، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: وَكَيْفَ أَصْنَعُ إِنْ أَدْرَكْتُهُمْ؟ قَالَ: " تَسْأَلُنِي ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللهَ ". تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ وَزَادَ فِيهِ " وَيُطْفِئُونَ السُّنَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے امیر ہوں گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کریں گے اور بدعات جاری کریں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اگر میں ان کو پالوں تو کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام عبد کے بیٹے! مجھ سے سوال کرتے ہو تم کیا کرو! جو اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت نہیں۔“