کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کوئی نیا امر (عذر) پیش آ جانے کی وجہ سے نماز کو ہلکا کر دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْمَنِيعِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ الْأَوْزَاعِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ ". لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ، وَفِي حَدِيثِ الْأَدِيبِ فِي الصَّلَاةِ وَقَالَ: " فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ثُمَّ قَالَ: تَابَعَهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور نماز کو لمبا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، پھر میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز کو مختصر کر دیتا ہوں کہ کہیں اس کی والدہ پر مشقت نہ پڑ جائے۔“
ادیب کی حدیث میں ہے کہ ”میں اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں۔“
ادیب کی حدیث میں ہے کہ ”میں اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو سَلَمَةَ يَعْنِي مُوسَى بْنَ إِسْمَاعِيلَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أُطِيلُهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ وَجْدِ أُمِّهِ عَلَيْهِ مِنْ بُكَائِهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ مُوسَى: حَدَّثَنَا أَبَانُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”میں نماز شروع کرتا ہوں اور نماز لمبی کرنے کا ارادہ ہوتا ہے، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر میں نماز مختصر کردیتا ہوں، تاکہ بچے کے رونے کی وجہ سے اس کی والدہ تکلیف میں نہ رہے۔“