حدیث نمبر: 5275
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ، وَالضَّعِيفَ، وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے، کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور بوڑھے ہوتے ہیں اور جب تم خود نماز پڑھو تو جتنی چاہو لمبی کرو۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ ان میں بیمار اور کمزور ہوتے ہیں اور جب وہ خود نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ ان میں بیمار اور کمزور ہوتے ہیں اور جب وہ خود نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے۔“
حدیث نمبر: 5276
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الصَّغِيرَ، وَالْكَبِيرَ، وَالضَّعِيفَ، وَالْمَرِيضَ، فَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کروائے تو نماز مختصر پڑھے؛ کیونکہ ان میں بیمار، بوڑھے، کمزور اور چھوٹے ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 5277
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفِ الصَّلَاةَ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَفِيهِمُ الضَّعِيفُ، وَفِيهِمُ السَّقِيمُ، وَإِنْ قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَاءَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کروائے تو نماز میں اختصار کرے، کیونکہ اس میں بوڑھے، کمزور اور بیمار ہوتے ہیں۔ اگر وہ اکیلا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی نماز پڑھے۔“
حدیث نمبر: 5278
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " أُمَّ ⦗١٦٨⦘ قَوْمَكَ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا قَالَ: " ادْنُهْ "، فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيِيَّ، ثُمَّ قَالَ: " تَحَوَّلْ "، فَوَضَعَهُمَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفِيَّ ثُمَّ قَالَ: " أُمَّ قَوْمَكَ، فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الصَّغِيرَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ، وَإِنَّ فِيهِمْ ذَا الْحَاجَةِ، فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے فرمایا: ”آپ اپنی قوم کی امامت کروائیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور اپنا ہاتھ میرے سینے کے درمیان رکھا، پھر فرمایا: ”رخ بدلو۔“ پھر اپنے ہاتھ میری کمر پر دو کندھوں کے درمیان رکھ دیے، پھر فرمایا: ”اپنی قوم کی امامت کرواؤ، جب اپنی قوم کی امامت کرو تو اختصار اختیار کرنا، کیونکہ ان میں بوڑھے، چھوٹے، مریض اور حاجت مند ہیں۔ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ جیسے چاہے نماز پڑھے۔“
حدیث نمبر: 5279
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ سَرْجِسَ قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ، وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع بن سرجس کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کی تیمار داری کی جس مرض میں وہ فوت ہوئے، ہم نے ان سے سنا کہ نبی ﷺ لوگوں کو نماز پڑھانے میں اختصار کرتے اور بذاتِ خود لوگوں سے لمبی نماز پڑھتے تھے۔