کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام نماز چھوڑ کر چلا جائے اور کسی کو اپنا جانشین نہ بنائے
حدیث نمبر: 5259
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ السُّلَمِيُّ " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ مُعَاوِيَةَ يَوْمَ طُعِنَ بِإِيلِيَاءَ رَكْعَةً وَطُعِنَ مُعَاوِيَةُ حِينَ قَضَاهَا، فَأَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ مِنْ سُجُودِهِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلنَّاسِ: " أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ "، فَقَامَ كُلُّ امْرِئٍ فَأَتَمَّ صَلَاتَهُ، وَلَمْ يُقَدِّمْ أَحَدًا وَلَمْ يُقَدِّمْهُ النَّاسُ ".
حافظ ثناء اللہ
خالد بن عبداللہ بن رباح سلمی فرماتے ہیں کہ میں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایلیا مقام میں ایک رکعت پڑھی، جب وہ زخمی کیے گئے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ زخمی کیے گئے جب ایک رکعت مکمل ہوئی، انہوں نے سجدے سے سر اٹھانا چاہا تو لوگوں سے کہا: تم اپنی نماز مکمل کرو۔ ہر آدمی نے کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کی، نہ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کسی کو آگے کیا اور نہ ہی لوگوں نے کسی کو آگے کیا۔