کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: عجمی اور قراءت میں غلطی کرنے والے کی امامت کی کراہت کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: اجْتَمَعَتْ جَمَاعَةٌ فِيمَا حَوْلَ مَكَّةَ قَالَ: حَسَبْتُ أَنْ قَالَ: فِي أَعْلَى الْوَادِي هَاهُنَا، وَفِي الْحَجِّ، قَالَ: فَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي السَّائِبِ أَعْجَمِيُّ اللِّسَانِ، قَالَ: فَأَخَّرَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَقَدَّمَ غَيْرَهُ، فَبَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَلَمْ يُعَرِّفْهُ بِشَيْءٍ حَتَّى جَاءَ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمَدِينَةَ عَرَّفَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ: " أَنْظِرْنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ الرَّجُلَ كَانَ أَعْجَمِيَّ اللِّسَانِ، وَكَانَ فِي الْحَجِّ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْمَعَ بَعْضُ الْحَاجِّ قِرَاءَتَهُ فَيَأْخُذَ بِعُجْمَتِهِ، فَقَالَ: هُنَالِكَ ذَهَبْتَ بِهَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقَالَ: قَدْ أَصَبْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکہ کے ارد گرد ایک جماعت جمع ہوگئی، میرا گمان ہے کہ وادی کے بالائی علاقہ میں اور حج کے ایام میں۔ نماز کا وقت آگیا تو آلِ ابوسائب میں سے ایک عجمی شخص آگے بڑھا تو سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے اس کو پیچھے کر دیا اور کسی اور کو آگے کیا۔ یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں پوچھا، جب وہ مدینہ آئے تو پوچھا؛ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے امیر المؤمنین! میری بات دھیان سے سنیں، یہ شخص عجمی ہے اور حج کے ایام تھے، مجھے ڈر ہوا کہ بعض حاجی اس کی قرأت سن کر اس کا عجمی لہجہ اختیار کر لیں گے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کا مقصد یہ تھا؟ فرمایا: ہاں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے درست کام کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5127
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ الشافعي في الام 1/294»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ: " قَدْ نَفَعَنِي اللهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ ⦗١٢٨⦘ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَهُ مَعَهُمْ، بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَهْلَ فَارِسَ مَلَّكُوا عَلَيْهِمُ ابْنَةَ كِسْرَى، فَقَالَ: " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ". . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھے ایک بات کے ذریعے نفع دیا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی، جبکہ میں قریب تھا کہ اصحابِ جمل سے جا ملوں اور ان کے ساتھ مل کر لڑائی کروں، جب رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر ملی کہ اہلِ فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: «لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً» ”وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پا سکے گی جس نے اپنے معاملات عورت کے سپرد کردیے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5128
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 4164»