السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية إمامة الأعجمي واللحان باب: عجمی اور قراءت میں غلطی کرنے والے کی امامت کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5128
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ: " قَدْ نَفَعَنِي اللهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ ⦗١٢٨⦘ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَهُ مَعَهُمْ، بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَهْلَ فَارِسَ مَلَّكُوا عَلَيْهِمُ ابْنَةَ كِسْرَى، فَقَالَ: " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ". . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھے ایک بات کے ذریعے نفع دیا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی، اس کے بعد میں نے خیال کیا کہ میں اصحابِ جمل کے ساتھ لڑائی کروں گا، کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر ملی کہ لوگوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: «لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً» ”وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پا سکے گی جس نے اپنے معاملات عورت کے سپرد کردیے۔“