کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: والدین پر بچوں کو طہارت اور نماز سکھانے کی ذمہ داری کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ مِهْرَانَ الدَّقَّاقُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو حَمْزَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرُوا الصِّبْيَانَ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا فِي عَشْرٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سات سال کی عمر میں اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں مار کر نماز پڑھاؤ اور ان کے بستر جدا کر دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجُهَنِيُّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: مَتَى يُصَلِّي الصَّبِيُّ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، كَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَذْكُرُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " مَتَى عَرَفَ يَمِينَهُ مِنْ يَسَارِهِ فَمُرُوهُ بِالصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم معاذ بن عبداللہ جہنی رحمہ اللہ کے پاس گئے تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا: بچہ کب نماز پڑھے؟ وہ فرمانے لگیں: ایک شخص نبی ﷺ سے نقل کر رہا تھا کہ جب آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں سے پہچان لے تو اس کو نماز کا حکم دو۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " حَافِظُوا عَلَى أَبْنَائِكُمْ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ تَعَوَّدُوا الْخَيْرَ؛ فَإِنَّمَا الْخَيْرُ بِالْعَادَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم اپنی اولاد سے نماز پر محافظت کراؤ اور تم ان کو خیر کا عادی بناؤ؛ کیونکہ بھلائی عادت کی وجہ سے ہوتی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " حَافِظُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ فِي الصَّلَاةِ، وَعَلِّمُوهُمُ الْخَيْرَ، فَإِنَّمَا الْخَيْرُ عَادَةٌ ". خَالَفَهُ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ فَرَوَاهُ عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ابواحوص رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ تم اپنی اولاد سے نماز پر محافظت کراؤ اور ان کو بھلائی سکھاؤ اور بھلائی عادت کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔
جعفر بن عون نے ان کی مخالفت کی ہے اور اسے ابو العمیس سے، انہوں نے قاسم سے، انہوں نے عبداللہ سے مرسل روایت کیا ہے۔
جعفر بن عون نے ان کی مخالفت کی ہے اور اسے ابو العمیس سے، انہوں نے قاسم سے، انہوں نے عبداللہ سے مرسل روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " حَافِظُوا عَلَى أَبْنَائِكُمْ فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنے بچوں سے نماز پر محافظت کراؤ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ السِّمْسَارُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَاهَانَ الدَّيْنَوَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا عَامِرُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازُ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا خَيْرًا لَهُ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ ". أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَامِرٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَمْ يَصِحَّ سَمَاعُ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ایوب بن موسیٰ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا خَيْرًا لَهُ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ» ”اچھے ادب سے بڑھ کر کوئی والد اپنی اولاد کو تحفہ و عطیہ نہیں دیتا۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں: ان کے دادا کا نبی ﷺ سے سماع ثابت نہیں۔
یہ روایت مرسل ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں: ان کے دادا کا نبی ﷺ سے سماع ثابت نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ الْحَاطِبِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ لِرَجُلٍ: " أَدِّبِ ابْنَكَ، فَإِنَّكَ مَسْئُولٌ عَنْ وَلَدِكَ، مَاذَا أَدَّبْتَهُ؟ وَمَاذَا عَلَّمْتَهُ؟ وَأَنَّهُ مَسْئُولٌ عَنْ بِرِّكَ وَطَوَاعِيَتِهِ لَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
عثمان حاطبی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ ایک شخص سے کہہ رہے تھے: اپنے بیٹے کو ادب سکھا، کیونکہ تجھ سے اپنی اولاد کے ادب کے بارے میں سوال ہو گا اور تو نے اس کو کیا تعلیم دی ہے، کیونکہ اس سے نیکی اور اطاعت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ: " إِذَا عَلَّمْتُ وَلَدِي وَزَوْجَتَهُ وَأَحْجَيْتُهُ فَقَدْ قَضَيْتُ حَقَّهُ، وَبَقِيَ حَقِّي عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں اپنی اولاد کو تعلیم دوں اور ان کی شادی کر دوں اور میں ان کو اس قابل بناؤں تو میں نے ان کا حق ادا کر دیا اور میرا حق ان کے ذمہ باقی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ أَوِ الْعَتَمَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّيهَا لِقَوْمِهِ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، قَالَ فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّ قَوْمَهُ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ فَصَلَّى وَحْدَهُ، فَقَالُوا لَهُ: أَنَافَقْتَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي آتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ، وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ ⦗١٢١⦘ تَأَخَّرْتُ وَصَلَّيْتُ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ: " أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا، وَسُورَةِ كَذَا "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے، پھر بنو سلمہ کو جا کر عشا کی نماز پڑھاتے۔ راوی کہتے ہیں: ایک دن نبی ﷺ نے عشا کی نماز مؤخر کر دی، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر انہوں نے واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کروائی اور اس میں سورہ بقرہ پڑھی۔ ایک شخص نے الگ ہو کر نماز پڑھ لی۔ انہوں نے کہا: کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ کہنے لگا: نہیں، میں نبی ﷺ کے پاس جاؤں گا اور جا کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے نماز میں تاخیر کی اور معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آ کر ہماری امامت کروائی اور انہوں نے سورہ بقرہ شروع کر دی، جب میں نے دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور الگ نماز پڑھ لی، ہم تو پانی بھرنے والے ہیں، اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں۔ نبی ﷺ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے! فلاں فلاں سورت پڑھا کرو۔“