کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مساجد کی فضیلت، ان میں نماز ادا کر کے انہیں آباد کرنے اور ان میں نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4983
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ أَسْوَاقُهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ، وَإِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْأَنْصَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمام جگہوں سے زیادہ محبوب جگہ اللہ کے ہاں مسجدیں ہیں اور تمام جگہوں سے زیادہ ناپسند جگہ اللہ کے ہاں بازار ہیں۔“
حدیث نمبر: 4984
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ بِمَكَّةَ، أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْجُمَحِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " لَا أَدْرِي " قَالَ: فَأِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ قَالَ: " لَا أَدْرِي " قَالَ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جِبْرِيلُ أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ: " أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ: " سَلْ رَبَّكَ " قَالَ: فَانْتَقَضَ جِبْرِيلُ انْتِقَاضَةً كَادَ يُصْعَقُ مِنْهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ: أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ فَقُلْتَ: لَا أَدْرِي، وَسَأَلَكَ: أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ فَقُلْتَ: لَا أَدْرِي، فَأَخْبِرْهُ أَنَّ خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ، وَأَنَّ شَرَّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ ".
حافظ ثناء اللہ
محارب بن دثار ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سی جگہ بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا۔“ اس نے کہا: کون سی جگہ بری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا۔“ اتنے میں جبرائیل آئے تو نبی ﷺ نے جبرائیل سے پوچھا: ”اے جبرائیل! کون سی جگہ بہتر ہے؟“ اس نے کہا: میں نہیں جانتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون سی جگہ بری ہے؟“ اس نے کہا: میں نہیں جانتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رب تعالیٰ سے سوال کرو۔“ جبرائیل نے نبی ﷺ کو دبایا، قریب تھا کہ آپ ﷺ بیہوش ہو جاتے اور کہا: میں کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل سے کہا: تجھ سے محمد ﷺ نے سوال کیا: کون سی جگہ بہتر ہے؟ آپ نے کہہ دیا: مجھے نہیں معلوم اور انہوں نے تجھ سے سوال کیا کہ کون سی جگہ بری ہے تو آپ نے کہہ دیا: مجھے معلوم نہیں، آپ ان کو خبر دے دیں کہ بہترین جگہیں مساجد ہیں اور بدترین جگہیں بازار ہیں۔
حدیث نمبر: 4985
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَقِيلٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ ". . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اتنی دیر نماز میں رہتا ہے، جتنی دیر نماز اس کو روکے رکھتی ہے کہ وہ اپنے گھر کی طرف واپس پلٹے۔“
حدیث نمبر: 4986
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: انْتَظَرْنَا الْحَسَنَ فَرَاثَ عَلَيْنَا فَجَاءَ، وَقَالَ: دَعَانَا جِيرَانُنَا هَؤُلَاءِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: انْتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَبَلَغَهُ فَجَاءَ فَصَلَّى لَنَا ثُمَّ خَطَبَنَا، فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَرَقَدُوا، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ ⦗٩٣⦘ الصَّلَاةَ ". قَالَ الْحَسَنُ: " وَإِنَّ الْقَوْمَ لَنْ يَزَالُوا فِي خَيْرٍ مَا انْتَظَرُوا الْخَيْرَ ". قَالَ قُرَّةُ: هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّبَّاحِ.
حافظ ثناء اللہ
قرہ بن خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حسن کا انتظار کیا۔ انہوں نے دیر کردی، پھر وہ آئے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے ایک رات نبی کریم ﷺ کا انتظار کیا تو تقریباً آدھی رات ہوگئی۔ آپ ﷺ کو یہ خبر ملی تو آپ ﷺ آئے اور نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم نماز میں رہے جتنی دیر تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔“ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگ بھلائی میں رہے جتنی دیر بھلائی کا انتظار کرتے رہے۔
حدیث نمبر: 4987
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَلِيمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغُ، بِمَرْوَ، أنبأ الْمُوَجِّهُ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَمْ تَعْلَمْ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنا سایہ نصیب کرے گا قیامت کے دن جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا: انصاف کرنے والا حکمران، اور وہ جوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنی جوانی صرف کرتا ہے، اور وہ بندہ جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑتے ہیں، اور وہ بندہ جس کا دل مسجد سے لگا ہوا ہے، اور دو شخص جو اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور وہ بندہ جس کو حسب و نسب اور جمال والی عورت برائی کی دعوت دے تو وہ کہتا ہے: ”میں اللہ سے ڈرتا ہوں“، اور وہ بندہ جو صدقہ کرتا ہے اور اسے پوشیدہ رکھتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہیں ہوتا جو اس کے دائیں ہاتھ نے خرچ کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4988
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالْإِيمَانِ " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة: ١٨].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کسی کو مسجد کی طرف جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دے دو۔“ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [سورة التوبة: 18] ”اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جن کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو۔“
حدیث نمبر: 4989
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلُّوَيْهِ الدَّقَّاقُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ بْنِ مَنِيعٍ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عُمَّارَ بُيُوتِ اللهِ هُمْ أَهْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ". صَالِحٌ الْمُرِّيُّ غَيْرُ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے گھروں کو اللہ والے ہی آباد کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 4990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الْأَزْدِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس غرض سے انسان مسجد میں آتا ہے وہی اس کا حصہ ہے۔“