کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے مستحب قرار دیا کہ آدمی اپنی جائے نماز سے نہ اٹھے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور وہ چاشت کی نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 4907
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا، غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص صبح کی نماز سے فراغت کے بعد اپنی جگہ بیٹھا رہے، پھر چاشت کی نماز کی دو رکعات پڑھے، اس دوران صرف بھلائی کی بات کرے تو اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں۔“