کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”وتر میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھی جائے“۔
حدیث نمبر: 4861
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ: رُبَّمَا قَالَ الْمُسَيَّبُ عَنْ عَزْرَةَ، وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَقْرَأُ فِيهَا بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، وَكَانَ يَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَكَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ " مَرَّتَيْنِ يُسِرُّ بِهِمَا، وَالثَّالِثَةُ يَجْهَرُ بِهَا، وَيَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین وتر پڑھتے، ان میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1]، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے تھے اور دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔ جب سلام پھیرتے تو «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» دو مرتبہ آہستہ کہتے اور تیسری مرتبہ بلند آواز سے کہتے اور آواز کو بلند کرتے۔
حدیث نمبر: 4862
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ: بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، وَيَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ فِي الْآخِرَةِ يَقُولُ: " رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین سورتوں کے ساتھ وتر پڑھتے: ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1]، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔ جب سلام پھیرتے تو کہتے: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے“ تین مرتبہ اور آخر میں آواز کو بلند کرتے اور کہتے: «رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ» ”فرشتوں اور روح کا رب“۔
حدیث نمبر: 4863
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ: حَدِيثَ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرِ الْقُنُوتَ، وَلَا ذَكَرَ أُبَيًّا. قَالَ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ وَسَمَعَاهُ بِالْكُوفَةِ مَعَ عِيسَى بْنِ يُونُسَ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْقُنُوتَ قَالَ: وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ وَشُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَلَمْ يَذْكُرَا الْقُنُوتَ، وَحَدِيثُ زُبَيْدٍ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ وَشُعْبَةُ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُلُّهُمْ عَنْ زُبَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْقُنُوتَ، إِلَّا مَا ⦗٥٨⦘ رُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ زُبَيْدٍ فَإِنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: أَنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ، وَلَيْسَ هُوَ بِالْمَشْهُورِ مِنْ حَدِيثِ حَفْصٍ يَخَافُ أَنْ يَكُونَ عَنْ حَفْصٍ عَنْ غَيْرِ مِسْعَرٍ. هَذَا كُلُّهُ قَوْلُ أَبِي دَاوُدَ، وَضَعَّفَ أَبُو دَاوُدَ هَذِهِ الزِّيَادَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، نہ اس میں قنوت کا ذکر ہے اور نہ ہی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا۔
(ب) دوسری روایت محمد بن بشر عبدی کی ہے، انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا۔
(ج) شعبہ، قتادہ سے بیان کرتے ہیں: انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا۔
(د) سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان وغیرہ زبیر سے نقل فرماتے ہیں، ان میں سے بھی کسی نے قنوت کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن حفص بن غیاث عن مسعر عن زبیر میں ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی۔
(نوٹ) یہ تمام اقوال ابوداؤد رحمہ اللہ کے ہیں اور ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس زیادتی کو بھی ضعیف کہا ہے۔
(ب) دوسری روایت محمد بن بشر عبدی کی ہے، انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا۔
(ج) شعبہ، قتادہ سے بیان کرتے ہیں: انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا۔
(د) سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان وغیرہ زبیر سے نقل فرماتے ہیں، ان میں سے بھی کسی نے قنوت کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن حفص بن غیاث عن مسعر عن زبیر میں ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی۔
(نوٹ) یہ تمام اقوال ابوداؤد رحمہ اللہ کے ہیں اور ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس زیادتی کو بھی ضعیف کہا ہے۔
حدیث نمبر: 4864
أَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بْنُ السَّقَّا بِنَيْسَابُورَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادَةَ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ لَا يُسَلِّمُ فِيهِنَّ حَتَّى يَنْصَرِفَ، الْأُولَى بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَالثَّانِيَةِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَالثَّالِثَةِ بِقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، وَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ " مَرَّتَيْنِ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین رکعات وتر پڑھتے تھے، ان میں سلام نہیں پھیرتے تھے۔ پہلی رکعت میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور دوسری رکعت میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور تیسری رکعت میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوتے تو پڑھتے: «سُبْحَانَ اللهِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے اللہ جو بادشاہ ہے، نہایت مقدس ہے“، دو مرتبہ آہستہ اور تیسری مرتبہ بلند آواز سے۔
حدیث نمبر: 4865
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٥٩⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " بِتُّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْظُرَ كَيْفَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ، فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ بَعَثَتْ أُمِّي أُمَّ مَعْبَدٍ فَقُلْتُ: بِيتِي مَعَ نِسَائِهِ فَانْظُرِي كَيْفَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ فَأَنْبِئِينِي، فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ ". وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، وَمَدَارُ الْحَدِيثِ عَلَيْهِ، وَأَبَانُ مَتْرُوكٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ رات گزاری تاکہ میں دیکھ سکوں کہ آپ ﷺ وتر میں قنوت کیسے پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھا۔ پھر میں نے اپنی ماں ام عبد رضی اللہ عنہا کو بھیجا کہ وہ آپ ﷺ کی عورتوں کے پاس رات گزاریں اور دیکھیں، آپ ﷺ اپنے وتر میں قنوت کیسے پڑھتے ہیں؟ جب وہ واپس آئیں تو انہوں نے کہا کہ رکوع سے پہلے قنوت ہے۔
حدیث نمبر: 4866
وَرَوَى عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَوْتَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ قَنَتَ فِيهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَلَبِيُّ، فَذَكَرَهُ. وَهَذَا يَنْفَرِدُ بِهِ عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے تین وتر پڑھے، ان میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھی۔