کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وتر کے وقت میں اختیار اور اس سلسلے میں مروی احتیاط کا بیان۔
حدیث نمبر: 4837
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ آخِرَ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ ثُمَّ لِيَرْقُدْ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَغَيْرِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سفیان، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو رات کے آخری حصہ میں بیدار نہ ہو سکنے کا خوف ہو تو وہ وتر رات کے ابتدائی حصہ میں پڑھ لے، پھر سو جائے اور جو رات کے آخری حصہ میں اٹھنے کا لالچ رکھتا ہو وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصہ کی قرأت پیش کی جاتی ہے اور یہ افضل ہے۔“
حدیث نمبر: 4838
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّكُمْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ ثُمَّ لِيَرْقُدْ، وَمَنْ وَثِقَ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو زبیر، سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ: ”جس کو خوف ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار نہیں ہو سکے گا، وہ وتر پڑھ کر سو جائے اور جس کو پختہ یقین ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو جائے گا تو وہ رات کے آخری حصہ میں وتر ادا کرے، کیونکہ آخری رات کی قرأت پیش کی جاتی ہے اور یہ افضل ہے۔“
حدیث نمبر: 4839
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٥٢⦘ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَتَى تُوتِرُ؟ " قَالَ: أُوتِرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ، وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَتَى تُوتِرُ؟ " قَالَ: أَنَامُ ثُمَّ أُوتِرُ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَخَذْتَ بِالْحَزْمِ أَوْ بِالْوَثِيقَةِ "، وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن رباح رحمہ اللہ، سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کب وتر پڑھتے ہو؟“ کہنے لگے: سونے سے پہلے وتر پڑھ لیتا ہوں، آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ کب وتر پڑھتے ہیں؟“ کہنے لگے: میں سونے کے بعد اٹھ کر وتر پڑھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو نے احتیاط کو اختیار کیا ہے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”آپ نے عزیمت کو اختیار کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4840
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَخَذَ بِالْحَزْمِ وَلَمْ يَشُكَّ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن اسحاق کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ نے احتیاط کو لیا ہے“، انہیں شک نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4841
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَتَى تُوتِرُ؟ " قَالَ: أُوتِرُ ثُمَّ أَنَامُ، قَالَ: " بِالْحَزْمِ أَخَذْتَ "، وَسَأَلَ عُمَرَ فَقَالَ: " مَتَى تُوتِرُ؟ " قَالَ: أَنَامُ ثُمَّ أَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَأُوتِرُ، قَالَ: " فِعْلُ الْقَوِيِّ فَعَلْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کب وتر پڑھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: وتر پڑھ کر سو جاتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے احتیاط کو اختیار کیا ہے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: ”تم کب وتر پڑھتے ہو؟“ تو انہوں نے کہا: میں سونے کے بعد کھڑا ہوتا ہوں، پھر وتر پڑھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مضبوط لوگوں والا آپ نے کام کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4842
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَرْقُدَ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے دوست یعنی نبی ﷺ نے مجھے تین چیزوں کے بارے میں وصیت کی: ” ہر مہینہ کے تین روزے، چاشت کی دو رکعات اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں۔ “
حدیث نمبر: 4843
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ يَعْنِي النَّهْدِيَّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ.
حافظ ثناء اللہ
یہ سابقہ حدیث کی ایک سند ہے۔