کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے اور اس پر ہمیشگی کے لیے کوشش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4732
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ الشَّاعِرُ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ " قُلْتُ: بَلَى قَالَ: " فَلَا تَفْعَلْ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنَاكَ، وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، إِنَّ لِعَيْنِكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ ". ⦗٢٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سائب بن فروخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ تم دن کو روزہ اور رات کو قیام کرتے ہو۔“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو نظر جاتی رہے گی اور تھک جاؤ گے۔ تیری آنکھوں اور تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے، روزہ رکھ، افطار کر، قیام کر اور سو بھی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4732
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1102»
حدیث نمبر: 4733
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِهِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب تم نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہو تو دیکھ سکتے ہو، اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہو تو پھر بھی دیکھ سکتے ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4733
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1871»
حدیث نمبر: 4734
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، مِنْ أَصْلِهِ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَوْمِهِ تَطَوُّعًا، قَالَ: " كَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ: مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَيُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ: مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا، وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ، وَلَا نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی نماز اور نفلی روزہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ مہینے میں روزے رکھنا شروع کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ کا روزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے اور جب آپ ﷺ مہینے کے روزے چھوڑنے شروع کر دیتے تو ہم خیال کرتے کہ آپ ﷺ اس مہینے کے روزے نہیں رکھیں گے۔ رات کے جس حصہ میں ہم آپ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے اور جب سوئے ہوئے دیکھنا چاہتے تو بھی دیکھ لیتے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4734
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم»
حدیث نمبر: 4735
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الشَّرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الدَّائِمَ مِنَ الْعَمَلِ، قُلْتُ: أِيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَقُومُ؟ قَالَتْ: إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ ". أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ وَغَيْرِهِ عَنْ أَشْعَثَ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اعمال میں ہمیشگی کو پسند کرتے تھے۔ میں نے کہا: آپ ﷺ رات کے کس حصہ میں بیدار ہوتے تھے؟ فرمایا: ”جب مرغ اذان دیتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4735
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معني تخريجه في الحديث 4659»
حدیث نمبر: 4736
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى مَرَّتْ بِهَا، وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذِهِ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ، وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلِمَ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ؟ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لَا يَسْأَمُ اللهُ حَتَّى تَسْأَمُوا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمُرَادِيِّ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حولاء بنت تویت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزی میرے پاس سے گزری، میرے پاس رسول اللہ ﷺ بھی تھے۔ میں نے کہا: یہ حولاء بنت تویت ہے اور کہتے ہیں: یہ رات کو نہیں سوتی۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”رات کو کیوں نہیں سوتی؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اتنا عمل کرو جتنی تم طاقت رکھو۔ اللہ کی قسم! اللہ نہیں اکتائے گا تم اکتا جاؤ گی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4736
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 785»
حدیث نمبر: 4737
حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ إِمْلَاءً، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قِرَاءَةً، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ عِنْدَهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ هَذِهِ؟ " قَالَتْ: هَذِهِ فُلَانَةُ، لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، قَالَ: فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لَا يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا " قَالَ: فَقَالَتْ: " كَانَ أَحَبُّ الدِّينِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَغَيْرِهِ عَنْ هِشَامٍ، وَقَالُوا عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بنی اسد قبیلہ کی ایک عورت آئی، نبی ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ”یہ فلاں عورت ہے جو رات کو سوتی نہیں ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس کی نماز کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اوپر اتنا کام لازم کرو جتنا عمل کر سکو، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”سب سے بہترین عبادت اس شخص کی ہے جس نے اپنی عبادت پر ہمیشگی کی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4737
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 43»
حدیث نمبر: 4738
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا هِشَامٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: هَذِهِ فُلَانَةُ، تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ: " مَهْ، فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَأَحَبُّ الدِّينِ مَا دُوِِمَ عَلَيْهِ ". وَقَالَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: " فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " قَالَ فِيهِ بَعْضُهُمْ: " لَا يَمَلُّ مِنَ الثَّوَابِ حَتَّى تَمَلُّوا مِنَ الْعَمَلِ "، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُوصَفُ بِالْمَلَالِ، وَلَكِنَّ الْكَلَامَ أُخْرِجَ مَخْرَجَ الْمُحَاذَاةِ لِلَّفْظِ بِاللَّفْظِ، وَذَلِكَ شَائِعٌ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ وَعَلَى ذَلِكَ خَرَجَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا} [الشورى: ٤٠] قُوْبِلَتِ السَّيِّئَةُ الْأُولَى الَّتِي هِيَ ذَنْبٌ بِالْجَزَاءِ عَلَى لَفْظِ السَّيِّئَةِ، وَالْقِصَاصُ عَدْلٌ لَيْسَ بِسَيِّئَةٍ. وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ} [البقرة: ١٩٤] وَاقْتِصَاصُهُ لَيْسَ بِظُلْمٍ وَلَا عُدْوَانٍ، فَأُخْرِجَ فِي اللَّفْظِ لِلمُحَاذَاةِ عَلَى الِاعْتِدَاءِ وَالْمَعْنَى لَيْسَ بِاعْتِدَاءٍ، فَكَذَلِكَ قَوْلُهُ: " فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " أُخْرِجَ مُحَاذِيًا لِلَّفْظِ حَتَّى تَمَلُّوا، وَالْمَعْنَى لَا يَقْطَعُ عَنْهُمْ ثَوَابَ أَعْمَالِهِمْ مَا لَمْ يَمَلُّوا فَيَتْرُكُوهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”یہ فلاں عورت ہے“ اور اس کی نماز کا تذکرہ کیا جاتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رک جاؤ، اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم خود اکتا جاؤ گی اور سب سے زیادہ پسندیدہ عبادت وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے۔“
(ب) ابوبکر اسماعیل آپ ﷺ کے ارشاد «فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا» ”بے شک اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم خود اکتا جاؤ“ کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ اللہ ثواب دینے سے نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم عمل کرنے سے اکتا جاؤ گے۔
(نوٹ) اللہ کے لیے لفظِ ملال کا استعمال درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تھکتے نہیں ہیں۔
(ج) یہ الفاظ صرف الفاظ کو برابر کرنے کے لیے لائے گئے ہیں اور یہ کلامِ عرب میں جائز ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا﴾ [سورة الشورى: 40]، یہاں پہلا لفظ ”سیئہ“ اس سے مراد گناہ ہے اور دوسرے لفظ سے مراد بدلہ ہے۔
قصاص عدل ہے برائی نہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ﴾ [سورة البقرة: 194] ”پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر کی ہے“۔
قصاص میں نہ ظلم ہوتا ہے اور نہ ہی زیادتی، لیکن ایک جیسے الفاظ کا استعمال صرف الفاظ کی برابری کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4738
حدیث نمبر: 4739
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ " فَقَالُوا: هَذَا الْحَبْلُ لِزَيْنَبَ، تُصَلِّي فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُلُّوهُ، لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ بِنَشَاطِهِ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ ". ⦗٢٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا: دو ستونوں کے درمیان رسی باندھی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ زینب رضی اللہ عنہا کی ہے وہ اس کے سہارے نماز پڑھتی ہیں جب وہ تھک جاتی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کھول دو۔ تم میں سے ہر ایک چستی کی حالت میں نماز پڑھے جب وہ تھک جائے تو بیٹھ جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4739
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1099»
حدیث نمبر: 4740
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ " قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ، سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، أَوْ قَرِّبُوا، وَرُوحُوا وَاغْدُوا، وَخُطًى مِنَ الدُّلْجَةِ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کو اس کا عمل نجات دلوائے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں میں بھی نہیں، اگر اللہ نے مجھے اپنی رحمت میں نہ ڈھانپ لیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سیدھے رہو اور میانہ روی اختیار کرو، یا فرمایا: تم قریب رہو اور راحت کو اختیار کرو، اور صبح کے وقت چلو اور رات کا کچھ حصہ، اور میانہ روی اختیار کرو تم اپنے مقصد کو پالو گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4740
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5349»
حدیث نمبر: 4741
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ مُوسَى بْنُ بَحْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا، وَاسْتعينُوا بِالْغُدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ مُطَهِّرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دین آسان ہے، جو اس دین میں سختی کرے گا تو یہ دین اس پر غالب آ جائے گا، تم سیدھے سیدھے رہو اور قریب رہو اور خوشخبری دو اور تم صبح و شام اور رات کی نماز کے ذریعے مدد طلب کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4741
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 39»
حدیث نمبر: 4742
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ بُرَيْدَةُ: انْطَلَقْتُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً، فَجَعَلْتُ أُعَارِضُهُ وَأَحْبِسُ عَنْهُ، قَالَ: فَدَعَانِي فَأَخَذَ بِيَدِي، فَرَأَى رَجُلًا يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَقَالَ: " أَتَرَاهُ مُرَائِيًا، أَتَرَاهُ مُرَائِيًا؟ " قَالَ: فَتَرَكَ يَدَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ: " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا " وَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى " فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عیینہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں چل رہا تھا، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو گمان کیا کہ آپ ﷺ کو کوئی ضرورت ہے۔ کبھی تو میں آپ ﷺ کے سامنے آتا اور کبھی چھپ جاتا تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا، وہ رکوع و سجود زیادہ کررہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو میرے دیکھنے کو دیکھ رہا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے الگ کرلیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میانہ روی اختیار کرو، تم میانہ روی اختیار کرو۔“ پھر آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا اور فرمایا: ”جس نے اس دین کے بارے میں سختی کی تو یہ اس پر غالب آجائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4742
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ احمد 5/350»
حدیث نمبر: 4743
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الدِّينَ ⦗٢٨⦘ مَتِينٌ، فَأَوْغِلْ فِيهِ بِرِفْقٍ، وَلَا تُبَغِّضْ إِلَى نَفْسِكَ عِبَادَةَ اللهِ، فَإِنَّ الْمُنْبَتَّ لَا أَرْضًا قَطَعَ، وَلَا ظَهْرًا أَبْقَى ". هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو عَقِيلٍ، وَقَدْ قِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقِيلَ عَنْهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقِيلَ عَنْهُ غَيْرُ ذَلِكَ، وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”یہ دین مضبوط ہے، اس میں نرمی سے داخل ہو جاؤ اور اپنے نفس کو اللہ کی عبادت سے متنفر نہ کرو، وگرنہ اپنے مقصد کو کھو دو گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4743
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابن المبارك في الزهد 1178»
حدیث نمبر: 4744
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مَوْلًى لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ، فَأَوْغِلْ فِيهِ بِرِفْقٍ، وَلَا تُبَغِّضْ إِلَى نَفْسِكَ عِبَادَةَ رَبِّكَ، فَإِنَّ الْمُنْبَتَّ لَا سَفَرًا قَطَعَ، وَلَا ظَهْرًا أَبْقَى، فَاعْمَلْ عَمَلَ امْرِئٍ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَمُوتَ أَبَدًا، وَاحْذَرْ حَذَرًا يَخْشَى أَنْ يَمُوتَ غَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ دین مضبوط ہے، اس میں نرمی کے ساتھ شامل ہو اور اپنے نفس کو اپنے رب کی عبادت سے متنفر نہ کر اور نہ تو اتنا آگے نکل جا کہ اپنے مقصد کو کھو بیٹھے اور ایسے شخص کا سا عمل کر جس کا گمان ہے کہ وہ ہرگز نہیں مرے گا اور ڈرنا چھوڑ دے کہ کہیں تجھے کل ہی موت نہ آجائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4744
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»
حدیث نمبر: 4745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، وَمَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " الِاقْتِصَادُ فِي السُّنَّةِ أَحْسَنُ مِنَ الِاجْتِهَادِ فِي الْبِدْعَةِ ". هَذَا مَوْقُوفٌ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن یزید، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سنت میں میانہ روی اختیار کرنا بدعت میں کوشش کرنے سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4745
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ حاكم 1/184»
حدیث نمبر: 4746
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ: " مَا هَذَا الْحَبْلُ؟ " قَالُوا: لِفُلَانَةَ، تُصَلِّي فَإِذَا غُلِبَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِتُصَلِّي مَا عَقِلَتْ، فَإِذَا خَشِيَتْ أَنْ تُغْلَبَ فَلْتَنَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک رسی دو ستونوں کے درمیان بندھی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ رسی کس کی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں عورت کی ہے وہ اس کے ساتھ نماز پڑھتی ہیں، جب اس پر نیند غالب آ جاتی ہے تو اس کے ساتھ لٹک جاتی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک وہ بیدار رہے نماز پڑھے، جب نیند کے غلبہ کا خطرہ ہو تو سو جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4746
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم برقم 4739»