حدیث نمبر: 4570
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ (ح) وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعات ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو صبح کا ڈر ہو تو ان میں سے وتر بنا لے۔“
حدیث نمبر: 4571
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّوسِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ مُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ " فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: مَا مَثْنَى؟ قَالَ: تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ⦗٦٨٥⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعات ہیں، جب آپ کو محسوس ہو کہ صبح کا وقت آپ کو پالے گا تو ایک رکعت کے ذریعہ وتر پڑھیں۔“ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ دو سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: ہر دو رکعتوں پر سلام پھیرنا۔
حدیث نمبر: 4572
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ، فَيَخْرُجَ مَعَهُ " قَالَ: وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ فِي السَّلَامِ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، بِنَحْوِهِ رَوَاهُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ: " فَإِذَا سَكَبَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأَوَّلِ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ " قَالَ سُوَيْدٌ: سَكَبَ يُرِيدُ أَذَّنَ وَهُوَ مِنَ الصَّبِّ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ عشا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد فجر تک گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے اور ایک رکعت وتر (پڑھتے) اور سجدہ اتنا لمبا فرماتے تھے، جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیات کی تلاوت کر لے۔ جب مؤذن فجر کی اذان سے خاموش ہوتا اور صبح واضح ہو جاتی تو آپ ﷺ دو ہلکی سی رکعات پڑھتے، پھر دائیں جانب لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن اقامت کے لیے آتا تو آپ ﷺ اس کے ساتھ چلے جاتے۔ بعض نے کچھ زائد بھی نقل کیا ہے۔
(ب) یونس بن یزید بیان فرماتے ہیں کہ ہر دو رکعتوں پر سلام پھیرتے تھے۔
(ج) زہری بیان کرتے ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دینے کا ارادہ کرتا۔
(ب) یونس بن یزید بیان فرماتے ہیں کہ ہر دو رکعتوں پر سلام پھیرتے تھے۔
(ج) زہری بیان کرتے ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دینے کا ارادہ کرتا۔