کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نماز کھڑی ہونے کے بعد ان دونوں (سنتوں) میں مشغول ہونے کی کراہت کا بیان
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَأَبُو صَالِحٍ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَحَطْنَا بِهِ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَالَ: " يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ أَرْبَعًا " ⦗٦٧٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ دُونَ ذِكْرِ أَبِيهِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَوْلُهُ: عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہما نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا اور صبح کی اقامت کہہ دی گئی، آپ ﷺ نے اسے کچھ کہا، ہم نہیں جانتے کہ کیا کہا، راوی کہتے ہیں: ہم جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا: نبی ﷺ نے آپ سے کیا فرمایا؟ تو اس نے بتایا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہے کہ کوئی تم میں سے صبح کو چار رکعتیں پڑھنے لگے۔“
قعنبی نے کہا: عبداللہ بن مالک ابن بحینہ اپنے والد سے، اور اس حدیث میں ”اپنے والد سے“ کہنا غلطی ہے۔
قعنبی نے کہا: عبداللہ بن مالک ابن بحینہ اپنے والد سے، اور اس حدیث میں ”اپنے والد سے“ کہنا غلطی ہے۔
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَقَالَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ أنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، فَذَكَرَاهُ نَحْوَ رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيِّ، لَمْ يَقُولَا فِيهِ: عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ: أَبْصَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصُّبْحُ أَرْبَعًا الصُّبْحُ أَرْبَعًا؟ " قَالَ يَعْقُوبُ: الصَّحِيحُ هَذَا، وَإِبْرَاهِيمُ قَدْ أَخْطَأَ فِي قَوْلِهِ عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ایک شخص کو دو رکعتیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نماز کی اقامت کہہ دی گئی تھی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا صبح کی چار رکعتیں ہیں؟ کیا صبح کی چار رکعتیں ہیں؟“
یعقوب کہتے ہیں: یہی صحیح ہے، اور ابراہیم نے ”اپنے والد سے“ کہنے میں غلطی کی ہے۔
یعقوب کہتے ہیں: یہی صحیح ہے، اور ابراہیم نے ”اپنے والد سے“ کہنے میں غلطی کی ہے۔
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَجُلٌ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ: " تُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ: الْبُخَارِيُّ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: عَنْ سَعْدٍ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ: وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، وَشَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَالصَّحِيحُ قَوْلُ مَنْ قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَالِكِ بْنِ الْقَشِبِ مِنْ أَزِدِ شَنُوءَةَ وَأُمُّهُ بُحَيْنَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ قَالَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور نماز کھڑی ہو گئی تھی، ایک شخص دو رکعت پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو صبح کی چار رکعتیں پڑھے گا۔“
صحیح ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ کہا ہے، اور وہ عبداللہ بن مالک بن قشب ہیں جو ازد شنوءہ سے ہیں، اور ان کی والدہ بحینہ بنت حارث بن مطلب ہیں۔ یہ بات علی بن مدینی نے کہی ہے۔
صحیح ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ کہا ہے، اور وہ عبداللہ بن مالک بن قشب ہیں جو ازد شنوءہ سے ہیں، اور ان کی والدہ بحینہ بنت حارث بن مطلب ہیں۔ یہ بات علی بن مدینی نے کہی ہے۔
وَقَدْ أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ ⦗٦٧٨⦘ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حِينَ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَمَرَّ بِابْنِ الْقَشِبِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ لِابْنِ الْقَشِبِ: " أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟ " كَذَا قَالَ سُفْيَانُ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ (مسجد میں) داخل ہوئے، جب صبح کی نماز کی اقامت کہہ دی گئی آپ کا گزر ابن قشب رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو صبح کی چار رکعتیں پڑھے گا؟“
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَمَرَّ بِي وَضَرَبَ مَنْكِبِيَّ، وَقَالَ: " تُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ صبح کی نماز کے لیے نکلے اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے نماز کی اقامت کہی تو آپ ﷺ میرے پاس سے گزرے اور میرے کندھے پر مارا اور فرمایا: ”تو صبح کی چار رکعتیں پڑھے گا۔“
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " يَا فُلَانُ بِأِيِّ صَلَاتَيْكَ اعْتَدَدْتَ بِالَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ، أَوْ بِالَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا؟ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ اس نے جماعت سے ملنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھی۔ جب رسول ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فلاں! تو اپنی کس نماز کو شمار کرے گا؟ اس کو جو تو نے اکیلے پڑھی ہے یا اس کو جو تو نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟“
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، وَأَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ فَجَذَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور مؤذن نے اقامت کہنا شروع کر دی، نبی ﷺ نے مجھے کھینچا اور فرمایا: ”کیا تو صبح کی چار رکعت نماز پڑھے گا؟“
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " وَقَالَ مَرَّةً: " إِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔“ ایک جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی ہو جائے۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔“
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ (ح) قَالَ: وَثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، ح قَالَ: وَثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح قَالَ: وَثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، ح قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ كُلُّهُمْ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَعَنِ الْحَسَنِ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَعَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ قَالَ ⦗٦٧٩⦘ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا فَحَدَّثَنِي بِهِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ أَنْبَأَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِزِيَادَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَخْزُومِيُّ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ عُمَرَ، وَأنبأ السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ الْحَسَنِيُّ، أنبأ أَبُو الْأَحْرَزِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ دَنُوقَاءُ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " قَالَ زَكَرِيَّا، قَالَ حَمَّادٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ: حَدَّثَ بِهَذَا عَمْرٌو مَرَّةً فَرَفَعَهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ تَرْفَعُهُ قَالَ: بَلَى، قَالَ: لَا وَاللهِ، قَالَ: فَسَكَتَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَفَعَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سِوَى مَنْ ذَكَرْنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ وَجَمَاعَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرضی نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔“
أنبأ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ؟ قَالَ: " وَلَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: لَا أَعْلَمُ ذَكَرَ هَذِهِ الزِّيَادَةَ فِي مَتْنِهِ غَيْرُ يَحْيَى بْنِ نَصْرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَيَّارٍ، عَنْ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ، وَهُوَ وَهْمٌ، وَنَصْرُ بْنُ حَاجِبٍ الْمَرْوَزِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَابْنُهُ يَحْيَى كَذَلِكَ، وَفِيمَا احْتَجَجْنَا بِهِ مِنَ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ كِفَايَةٌ، عَنْ هَذِهِ الزِّيَادَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں“، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! فجر کی دو رکعتیں بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، فجر کی دو رکعتیں بھی نہیں“۔
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یحییٰ بن نصر کے علاوہ کسی نے مسلم بن خالد سے، انہوں نے عمرو سے، اس کے متن میں یہ اضافہ ذکر کیا ہو۔ احمد بن سیار سے نصر بن حاجب کے واسطے سے بھی بیان کیا گیا ہے، جو وہم ہے۔ نصر بن حاجب مروزی قوی نہیں ہیں اور ان کے بیٹے یحییٰ بھی ایسے ہی ہیں، اور جن صحیح احادیث سے ہم نے دلیل لی ہے وہ اس اضافے سے بے نیاز کر دیتی ہیں۔
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یحییٰ بن نصر کے علاوہ کسی نے مسلم بن خالد سے، انہوں نے عمرو سے، اس کے متن میں یہ اضافہ ذکر کیا ہو۔ احمد بن سیار سے نصر بن حاجب کے واسطے سے بھی بیان کیا گیا ہے، جو وہم ہے۔ نصر بن حاجب مروزی قوی نہیں ہیں اور ان کے بیٹے یحییٰ بھی ایسے ہی ہیں، اور جن صحیح احادیث سے ہم نے دلیل لی ہے وہ اس اضافے سے بے نیاز کر دیتی ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، فَحَصَبَهُ وَقَالَ: " أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟ " مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دو رکعتیں نماز پڑھتے ہوئے (دیکھا) جبکہ مؤذن اقامت کہہ رہا تھا تو انہوں نے اس کو کنکری ماری اور کہا: ”کیا تو صبح کی چار رکعتیں پڑھے گا؟“