❮
❯
حدیث نمبر: 4550
أنبأ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ؟ قَالَ: " وَلَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: لَا أَعْلَمُ ذَكَرَ هَذِهِ الزِّيَادَةَ فِي مَتْنِهِ غَيْرُ يَحْيَى بْنِ نَصْرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَيَّارٍ، عَنْ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ، وَهُوَ وَهْمٌ، وَنَصْرُ بْنُ حَاجِبٍ الْمَرْوَزِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَابْنُهُ يَحْيَى كَذَلِكَ، وَفِيمَا احْتَجَجْنَا بِهِ مِنَ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ كِفَايَةٌ، عَنْ هَذِهِ الزِّيَادَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں“، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! فجر کی دو رکعتیں بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، فجر کی دو رکعتیں بھی نہیں“۔
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یحییٰ بن نصر کے علاوہ کسی نے مسلم بن خالد سے، انہوں نے عمرو سے، اس کے متن میں یہ اضافہ ذکر کیا ہو۔ احمد بن سیار سے نصر بن حاجب کے واسطے سے بھی بیان کیا گیا ہے، جو وہم ہے۔ نصر بن حاجب مروزی قوی نہیں ہیں اور ان کے بیٹے یحییٰ بھی ایسے ہی ہیں، اور جن صحیح احادیث سے ہم نے دلیل لی ہے وہ اس اضافے سے بے نیاز کر دیتی ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4550
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»