السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية الاشتغال بهما بعدما أقيمت الصلاة باب: نماز کھڑی ہونے کے بعد ان دونوں (سنتوں) میں مشغول ہونے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 4550
أنبأ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ؟ قَالَ: " وَلَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: لَا أَعْلَمُ ذَكَرَ هَذِهِ الزِّيَادَةَ فِي مَتْنِهِ غَيْرُ يَحْيَى بْنِ نَصْرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَيَّارٍ، عَنْ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ، وَهُوَ وَهْمٌ، وَنَصْرُ بْنُ حَاجِبٍ الْمَرْوَزِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَابْنُهُ يَحْيَى كَذَلِكَ، وَفِيمَا احْتَجَجْنَا بِهِ مِنَ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ كِفَايَةٌ، عَنْ هَذِهِ الزِّيَادَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں“، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! فجر کی دو رکعتیں بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، فجر کی دو رکعتیں بھی نہیں“۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں مگر فجر کی دو رکعتیں“۔
نوٹ: اس زیادتی کی کوئی اصل نہیں ہے۔
(ج) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب کسی شخص کو دیکھتے کہ نماز پڑھ رہا ہے اور اقامت ہو رہی ہے تو اسے مارتے۔