کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سونے کی ناک بنوانے اور اس سے دانتوں کو باندھنے کی رخصت کا بیان
أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ " أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكِلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عرفجہ بن اسد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں کلاب والے دن ان کی ناک کاٹ دی گئی تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی، پھر اس میں بدبو پیدا ہو گئی تو آپ ﷺ نے ”سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی۔“
وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ، ثُمَّ قَالَ يَزِيدُ: قُلْتُ لِأَبِي الْأَشْهَبِ: أَدْرَكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ أَنْبَأَهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيُّ يَعْنِي أَبَا الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ " أَنَّ أَنْفَهُ أُصِيبَ يَوْمَ الْكِلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں یوم کلاب کو میری ناک کاٹ دی گئی، میں نے چاندی کی ناک بنوائی تو اس میں بدبو پیدا ہوگئی، پھر میں نے آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے ”سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی۔“
وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَرْفَجَةَ، بِمَعْنَاهُ أَنْبَأَهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
اسے اسماعیل بن علیہ نے ابو الاشہب سے، انہوں نے عبدالرحمن سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ (کی حدیث) «بِمَعْنَاهُ» ”اسی کے ہم معنی“ ہے، ہمیں اس کی خبر ابو علی روذباری نے دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوبکر بن داسہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو داود نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مؤمل بن ہشام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی، پھر انہوں نے اسے ذکر کیا۔
وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدَانَ مَوْلَى قُرَيْشٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَطُوفُ بِهِ بَنُوهُ عَلَى سَوَاعِدِهِمْ، وَقَدْ شُدَّتْ أَسْنَانُهُ بِذَهَبٍ " وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ التَّابِعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
قریش کے غلام محمد بن سعدان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے بیٹے ان کو اٹھا کر طواف کروا رہے تھے اور انہوں نے اپنے دانتوں کو سونے سے باندھا ہوا تھا۔