کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس اون یا بالوں کا بیان جن پر یا جن میں نماز پڑھی جائے
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ الْمَسْحِ قَالَ: " وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتَّى أَخْرَجَهَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ زَكَرِيَّا وَقَدْ رَوَاهُ مَسْرُوقٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، فَقَالَ: " وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ مَسْحَهُ ⦗٥٨٨⦘ وَصَلَاتَهُ " وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، فَقَالَ: " وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ مِنْ جِبَابِ الرُّومِ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے مسح کا قصہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ پر اون کا جبہ تھا، آپ ﷺ اپنے بازوؤں کو اوپر کی جانب سے نہ نکال سکے تو آپ ﷺ نے ان کو جبے کے نیچے سے نکالا۔
(ب) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ پر تنگ آستینوں والا شامی جبہ تھا۔
(ج) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تنگ آستینوں والا اون کا رومی جبہ زیب تن کیا ہوا تھا۔
(ب) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ پر تنگ آستینوں والا شامی جبہ تھا۔
(ج) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تنگ آستینوں والا اون کا رومی جبہ زیب تن کیا ہوا تھا۔
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک صبح نکلے اور سیاہ بالوں کی منقش چادر آپ ﷺ کے اوپر تھی۔
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " صَنَعْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ فَلَبِسَهَا فَأَعْجَبَتْهُ، فَلَمَّا عَرِقَ فِيهَا فَوَجَدَ رِيحَ النَّمِرَةِ قَذَفَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے نبی ﷺ کے لیے اون کی سیاہ رنگ کی چادر تیار کی، آپ ﷺ نے اوڑھی تو آپ ﷺ کو بہت پسند آئی، لیکن جب اس میں آپ ﷺ کو پسینہ آیا اور آپ ﷺ نے اس اونی چادر کی بو محسوس کی تو اسے پھینک دیا۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا بُنِيَّ لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ " لَحَسِبْتَ رِيحَنَا رِيحَ الضَّأْنِ مِنْ لِبَاسِنَا الصُّوفَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! اگر آپ موجود ہوتے جس وقت ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے، جب ہم پر بارش ہوتی تو آپ ہمارے اون کے بنے ہوئے لباسوں کی وجہ سے ہماری بو کو بھیڑوں کی بو سمجھتے۔
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: " خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مُتَوَشِّحًا بِشَمْلَةٍ لَهُ صَغِيرَةٍ قَدْ عَقَدَ طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَصَلَّى بِنَا لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ غَيْرُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک دن چھوٹی چادر لپیٹے ہوئے نکلے اور اس کے دونوں کناروں کی گرہ آپ ﷺ نے دونوں کندھوں کے درمیان لگا رکھی تھی۔ آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور آپ ﷺ پر اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں تھی۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ رُومِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَصَلَّى بِنَا فِيهَا لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ غَيْرُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک دن تشریف لائے اور آپ ﷺ نے اون کا رومی جبہ پہنا ہوا تھا، جو تنگ آستینوں والا تھا۔ آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور آپ ﷺ نے اس جبہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں پہنا تھا۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ الْحِمَارَ وَيَلْبَسُ الصُّوفَ وَيَعْتَقِلُ الشَّاةَ وَيَأْتِي مُرَاعَاةَ الضَّيْفِ " كَذَا أَخْبَرَنَاهُ هُوَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ مَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ گدھے کی سواری، اون کا لباس، بکریوں کا دودھ دوہنا اور مہمان کی خاطر داری کیا کرتے تھے۔
یہ روایت اس سند کے ساتھ اسی طرح ہمیں بیان کی گئی ہے، یہ محفوظ نہیں ہے۔
یہ روایت اس سند کے ساتھ اسی طرح ہمیں بیان کی گئی ہے، یہ محفوظ نہیں ہے۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ⦗٥٨٩⦘ مُجَاهِدًا يَقُولُ: " صَلَّى فِي هَذَا الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ الْخَيْفِ، يَعْنِي مَسْجِدَ مِنًى، سَبْعُونَ نَبِيًّا لِبَاسُهُمُ الصُّوفُ وَنِعَالُهُمُ الْخُوصُ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ستر انبیاء علیہم السلام نے مسجد خیف یعنی مسجد منی میں نماز پڑھی، ان کے لباس اون کے تھے اور ان کے جوتے کھجور کے پتوں کے تھے۔