کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کے واجب ہونے کا بیان
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَإِحْرَامُهَا التَّكْبِيرُ، وَإِحْلَالُهَا التَّسْلِيمُ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر ہے (یعنی جب تکبیر تحریمہ کہی تو جتنے بھی کام نماز کے منافی تھے وہ حرام ہوگئے) اور ان کا حلال ہونا سلام ہے (یعنی جب سلام پھیرا تو سب افعال جائز ہوگئے)۔“
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ، أنبأ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ " تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ هَكَذَا فِيمَا زَعَمَ ابْنُ صَاعِدٍ، وَكَثِيرٌ مِنَ الْحُفَّاظِ وَقَدْ تَابَعَهُ عَلَيْهِ حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ حَسَّانَ، فَحَسَّانُ هُوَ الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ وَقَدْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر ہے اور اس کا حلال ہونا سلام ہے۔“
ابن صاعد اور بہت سے حفاظ کے خیال کے مطابق اسے اس طرح بیان کرنے میں ابو عمر ضریر منفرد ہیں، حالانکہ حبان بن ہلال نے حسان سے روایت کرنے میں ان کی متابعت کی ہے، لہٰذا اسے بیان کرنے میں حسان ہی منفرد ہیں۔
ابن صاعد اور بہت سے حفاظ کے خیال کے مطابق اسے اس طرح بیان کرنے میں ابو عمر ضریر منفرد ہیں، حالانکہ حبان بن ہلال نے حسان سے روایت کرنے میں ان کی متابعت کی ہے، لہٰذا اسے بیان کرنے میں حسان ہی منفرد ہیں۔
أنبأ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ أَبِي الدُّمَيْكِ، ثنا عَبْدُ اللهِ الْعَيْشِيُّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ وَالتَّكْبِيرُ تَحْرِيمُهَا وَالتَّسْلِيمُ تَحْلِيلُهَا " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَرِيفٍ السَّعْدِيِّ، وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ يَدُورُ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر ہے اور اس کو حلال کرنے والی چیز سلام ہے۔“
ابوسفیان طریف سعدی سے یہی روایت محفوظ ہے، اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کا دارومدار انہی پر ہے۔
ابوسفیان طریف سعدی سے یہی روایت محفوظ ہے، اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کا دارومدار انہی پر ہے۔
أنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِئُ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوُضُوءُ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ، وَالتَّكْبِيرُ تَحْرِيمُهَا، وَالتَّسْلِيمُ تَحْلِيلُهَا، وَفِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ تَسْلِيمٌ، وَلَا تُجْزِي صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَعَهَا غَيْرُهَا " قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِأَبِي حَنِيفَةَ: مَا يَعْنِي فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ تَسْلِيمٌ قَالَ: يَعْنِي التَّشَهُّدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کا حلال ہونا سلام پھیرنا ہے اور ہر دو رکعتوں میں سلام ہے اور نماز مکمل نہیں ہوتی، جب تک کہ سورہ فاتحہ اور اس کے علاوہ کچھ اور بھی پڑھا جائے۔“
ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ”دو رکعتوں میں سلام ہے“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ تشہد مراد لیتے تھے۔
ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ”دو رکعتوں میں سلام ہے“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ تشہد مراد لیتے تھے۔
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ قَبْلَ التَّشَهُّدِ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ التَّسْلِيمُ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز کے آخر میں قعدہ کرتے تو تشہد سے پہلے لوگوں کی طرف اپنا رخ انور کرتے اور یہ سلام کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔