وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَغَيْرِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
اور اس باب میں سیدنا ابومسعود انصاری، سیدنا کعب بن عجرہ، سیدنا ابوسعید، سیدنا فضالہ بن عبید اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی احادیث گزر چکی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: وَحَدَّثَنِي فِي الصَّلَاةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلَاتِنَا قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود انصاری عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، ہم بھی آپ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں جب ہم نماز پڑھ رہے ہوں؟ رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے اور اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم نے سوچا کاش یہ آدمی آپ ﷺ سے سوال ہی نہ کرتا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مجھ پر درود بھیجو تو کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! محمد (ﷺ) پر درود بھیج جو کہ نبیِ اُمّی ہیں اور محمد (ﷺ) کی آل پر درود بھیج جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آلِ ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل کی اور محمد نبیِ اُمّی (ﷺ) پر برکت نازل کر اور آپ (ﷺ) کی آل پر بھی جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل پر برکتیں نازل کیں۔ بیشک تو تعریف کیا ہوا بزرگی والا ہے۔“ “
علی (دارقطنی) رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ سند حسن متصل ہے۔
علی (دارقطنی) رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ سند حسن متصل ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " كَذَا قَالَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے تو اس کے بعد یہ پڑھے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! محمد ﷺ پر اور آپ کی آل پر درود بھیج اور محمد ﷺ اور آپ کی آل پر برکت نازل فرما اور محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ پر رحم فرما، جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر رحمتیں اور برکتیں نازل کیں اور رحم فرمایا۔ بیشک تو تعریف کیا ہوا بزرگی والا ہے۔“”
وَرَوَى عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ جَدِّي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَا يَذْكُرُ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو ⦗٥٣٠⦘ عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبُرِّيُّ ثنا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ فَذَكَرَهُ وَعَبْدُ الْمُهَيْمِنِ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَاتِهِ وَرُوِيَ فِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ مَرْفُوعًا وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالمہیمن بن عباس بن سہل ساعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا اور وہ میرے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو وضو نہ کرے اور اس شخص کا وضو ہی نہیں ہوتا جو وضو سے پہلے اللہ کا نام نہ لے اور اس شخص کی نماز ہی نہیں ہوتی جس نے نبی ﷺ پر درود نہیں پڑھا۔“
عبدالمہیمن ضعیف ہے، اس کی روایات سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ اور یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مرفوعاً روایت کی گئی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔
عبدالمہیمن ضعیف ہے، اس کی روایات سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ اور یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مرفوعاً روایت کی گئی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: " لَوْ صَلَّيْتُ صَلَاةً لَا أُصَلِّي فِيهَا عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَأَيْتُ أَنَّ صَلَاتِي لَا تَتِمُّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں کوئی ایسی نماز پڑھوں جس میں میں نے آلِ نبی ﷺ پر درود نہ پڑھا ہو تو میرا خیال ہوتا ہے کہ میری نماز مکمل نہیں ہوئی۔
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خُشَيْشٍ التَّمِيمِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُعَاوِيَةَ الطَّلْحِيُّ، ثنا أَبُو حُصَيْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حَبِيبٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ شَرِيكٍ قَالَ: وَثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، جَمِيعًا، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ قَالَ: " لَوْ صَلَّيْتُ صَلَاةً لَا أُصَلِّي فِيهَا عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ مَا رَأَيْتُ أَنَّهَا تَتِمُّ " تَفَرَّدَ بِهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَفِيمَا مَضَى هَاهُنَا، وَفِي بَابِ صِفَةِ الصَّلَاةِ كِفَايَةٌ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ فَلْيُعِدْ صَلَاتَهُ، أَوْ قَالَ: لَا تُجْزِي صَلَاتُهُ " وَرُوِّينَا مَعْنَاهُ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: اگر میں ایک نماز بھی ایسی پڑھوں جس میں نبی ﷺ اور آلِ محمد ﷺ پر درود نہ پڑھا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ نماز مکمل نہیں ہوئی۔
(ب) اس حدیث کو روایت کرنے میں جابر جعفی متفرد ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔ اس بارے میں جو احادیث یہاں اور باب صفۃ الصلوٰۃ میں گزر چکی ہیں وہ کافی ہیں۔ وباللہ التوفیق۔
(ج) امام شعبی رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی ہے کہ جو شخص تشہد میں نبی ﷺ پر درود نہ پڑھے اسے نماز لوٹا لینی چاہیے یا یہ فرمایا: اس کی نماز کفایت نہ کرے گی۔
(ب) اس حدیث کو روایت کرنے میں جابر جعفی متفرد ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔ اس بارے میں جو احادیث یہاں اور باب صفۃ الصلوٰۃ میں گزر چکی ہیں وہ کافی ہیں۔ وباللہ التوفیق۔
(ج) امام شعبی رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی ہے کہ جو شخص تشہد میں نبی ﷺ پر درود نہ پڑھے اسے نماز لوٹا لینی چاہیے یا یہ فرمایا: اس کی نماز کفایت نہ کرے گی۔