کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس کی کچھ نماز چھوٹ گئی ہو وہ اپنی بقیہ نماز پوری کرے اور وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا جب کہ نہ وہ بھولا ہو اور نہ ہی امام بھولا ہو
لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ".
حافظ ثناء اللہ
یہ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے ہے کہ: ”(نماز کا) جو حصہ تم پالو اسے پڑھ لو اور جو تم سے چھوٹ جائے اسے پورا کرو۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَوْرٍ الْجُذَامِيُّ، وَابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَا: ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: " انْتَهَيْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَقَدْ صَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَةً فَذَهَبَ يَسْتَأْخِرُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ فَصَلَّيْنَا مَا أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا مَا سُبِقْنَا بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ پہنچے تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک رکعت لوگوں کو پڑھا چکے تھے، آپ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی جگہ کھڑے رہنے کا اشارہ کیا۔ ہم نے جو نماز (باجماعت) پا لی وہ پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی وہ بعد میں مکمل کی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوَفَى، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ قِصَّةً قَالَ: فَأَتَيْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهُمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَمْضِيَ قَالَ: فَصَلَّيْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقَ بِهَا وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا شَيْئًا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُونَ: " مَنْ أَدْرَكَ الْفَرْضَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ " قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو نماز سے تاخیر ہو گئی۔ پھر انہوں نے مکمل قصہ ذکر کیا۔ فرماتے ہیں: ہم (میں اور نبی ﷺ) لوگوں کے پاس پہنچے اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا، آپ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ ”اپنی نماز جاری رکھو“۔ پھر میں نے اور نبی ﷺ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک رکعت پڑھی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر وہ رکعت پڑھی جو رہ گئی تھی اور اس پر مزید اضافہ (سجدہ سہو وغیرہ) نہیں کیا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز کی ایک رکعت پائے اس پر سجدہ سہو ضروری ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث اتباع کے زیادہ لائق ہے۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز کی ایک رکعت پائے اس پر سجدہ سہو ضروری ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث اتباع کے زیادہ لائق ہے۔