السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسبوق ببعض الصلاة يتم باقي صلاته ولا يسجد سجدتي السهو إذا لم يسه هو ولا الإمام باب: جس کی کچھ نماز چھوٹ گئی ہو وہ اپنی بقیہ نماز پوری کرے اور وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا جب کہ نہ وہ بھولا ہو اور نہ ہی امام بھولا ہو
حدیث نمبر: 3887
لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ".حافظ ثناء اللہ
یہ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے ہے کہ: ”(نماز کا) جو حصہ تم پالو اسے پڑھ لو اور جو تم سے چھوٹ جائے اسے پورا کرو۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَوْرٍ الْجُذَامِيُّ، وَابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَا: ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: " انْتَهَيْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَقَدْ صَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَةً فَذَهَبَ يَسْتَأْخِرُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ فَصَلَّيْنَا مَا أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا مَا سُبِقْنَا بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ پہنچے تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک رکعت لوگوں کو پڑھا چکے تھے، آپ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی جگہ کھڑے رہنے کا اشارہ کیا۔ ہم نے جو نماز (باجماعت) پا لی وہ پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی وہ بعد میں مکمل کی۔