کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار
حدیث نمبر: 3800
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي أنبأ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَارِثِ الْبَيْهَقِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَ هِيَ خَمْسًا كَانَتَا شَفْعًا وَإِنْ صَلَّى تَمَامَ الْأَرْبَعِ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ دَاوُدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ اگر وہ پانچ رکعتیں ہو گئی ہوں تو دو سجدے اس کو جفت بنا دیں گے اور اگر اس نے پوری چار پڑھ لی تھیں تو یہ (دو سجدے) شیطان کے لیے باعثِ ذلت ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 3801
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ السَّلَامِ، فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ " ⦗٤٦٩⦘ إِلَّا أَنَّ هِشَامًا بَلَغَ بِهِ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ هَكَذَا رَوَاهُ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمِّهِ ابْنِ وَهْبٍ فَجَعَلَ الْوَصْلَ لِدَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز کے بارے میں شک ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار؟ تو وہ ایک رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے، اگر پڑھی جانے والی رکعت پانچویں ہوگی تو وہ ان دو سجدوں سے جفت بن جائے گی اور اگر پڑھی جانے والی رکعت چوتھی ہوگی تو یہ دو سجدے شیطان کے لیے باعث ذلت و رسوائی ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 3802
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ثنا عَمِّي قَالَ: ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ وَرِوَايَةُ بَحْرِ بْنِ نَصْرٍ كَأَنَّهَا أَصَحُّ، وَقَدْ وَصَلَ الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَعَ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ وَهِشَامِ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے یہی حدیث حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3803
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً ثنا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا؟ فَلْيُتِمَّ وَيُصَلِّي رَكْعَةً ثُمَّ يَسْجُدْ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ خَمْسًا شَفَعَتْ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَتْ أَرْبَعًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ وَفُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو یہ پتا نہ چلے کہ اس نے تین رکعتیں ادا کی ہیں یا چار تو اس کو چاہیے کہ وہ نماز مکمل کرے اور ایک رکعت مزید پڑھ لے۔ پھر اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے۔ اگر اس کی پانچ رکعتیں ہو گئیں تو ان سجدوں کی وجہ سے اس کی نماز جفت ہو جائے گی اور اگر اس کی چار رکعتیں ہو گئیں تو وہ دو سجدے شیطان کے لیے باعثِ ذلت و رسوائی ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 3804
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ فَرَّقَهُمَا فِي مَوْضِعَيْنِ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هَلْ سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ إِذَا نَسِيَ صَلَاتَهَ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ مَا أَمَرَ بِهِ فِيهِ؟ قُلْتُ: وَمَا سَمِعْتَ أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ فِيهِ شَيْئًا وَلَا سَأَلْتُ عَنْهُ، إِذْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ: فِيمَا أَنْتُمَا؟ فَأَخْبَرَهُ عُمَرُ، فَقَالَ: سَأَلْتُ هَذَا الْفَتَى عَنْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ أَجِدْ عِنْدَهُ عِلْمًا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَكِنْ عِنْدِي لَقَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ عِنْدَنَا الْعَدْلُ الرِّضَا فَمَاذَا سَمِعْتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَشَكَّ فِي الْوَاحِدَةِ وَالِثْنَتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً، وَإِذَا شَكَّ فِي الِاثْنَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهَا اثْنَتَيْنِ وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلَاثِ وَالْأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ " ⦗٤٧٠⦘ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس! کیا آپ نے نبی ﷺ سے اس طرح کا کوئی مسئلہ سنا ہے اس شخص کے بارے میں جو اپنی نماز میں بھول جائے، اسے پتہ نہ چلے کہ اس نے نماز میں کوئی زیادتی کی ہے یا کمی کی ہے جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا تھا؟ میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! اللہ کی قسم! میں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا اور نہ ہی آپ ﷺ سے اس بارے میں میں نے پوچھا ہے۔ اچانک سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا: تم کس مسئلہ میں پھنسے ہوئے ہو؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے وہ بات رکھ دی کہ میں نے اس نوجوان سے فلاں فلاں مسئلہ کے بارے میں پوچھا لیکن مجھے اس کے پاس سے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوا۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن میرے پاس اس بارے میں علم ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سنا ہوا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ تو ہمارے نزدیک منصف اور پسندیدہ شخصیت ہیں تو آپ نے نبی ﷺ سے کیا سنا ہے؟ تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اگر اس کو ایک اور دو رکعتوں میں شک ہو جائے تو ایک کو شمار کرے اور جب اسے دو یا تین میں شک ہو جائے تو ان کو دو سمجھے اور اگر تین اور چار (رکعتوں) میں شک پڑ جائے تو انہیں تین بنا دے، جب وہم زیادہ میں ہو۔ سلام سے پہلے دو سجدے کرلے پھر سلام پھیر دے۔“
حدیث نمبر: 3805
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو عُبَيْدَةَ السَّقَطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَتَذَاكَرْنَا الرَّجُلَ يَسْهُو فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى قَالَ: فَقُلْتُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ: فِيمَ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا الرَّجُلُ يَسْهُو فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " " إِذَا سَهَا الرَّجُلُ فَلَمْ يَدْرِ اثْنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَجْعَلِ السَّهْوَ فِي الزِّيَادَةِ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: فَلَقِيتُ حُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فَذَاكَرْتُهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ لِي: هَلْ أَسْنَدَهُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: لَكِنْ حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ. وَرَوَاهُ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ فَصَارَ وَصْلُ الْحَدِيثِ لِحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، إِلَّا أَنَّ لَهُ شَاهِدًا مِنْ حَدِيثِ مَكْحُولٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس مذاکرہ کر رہے تھے کہ اگر کوئی نماز میں بھول جائے اور اسے یہ بھی یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی (رکعت) نماز پڑھی ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے کہا کہ میں نے تو اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ نہیں سنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ تو انہوں نے کہا: کس مسئلہ میں (پریشان) ہو؟ ہم نے کہا: اگر آدمی اپنی نماز میں بھول جائے اور اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی جب نماز میں بھول جائے اور اسے پتا نہ چلے کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں، تین پڑھی ہیں یا چار پڑھی ہیں تو وہ زیادہ کو شمار کرے اور سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔“
حدیث نمبر: 3806
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَعْرُوفُ بِأَبِي الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، فَذَكَرَهُ نَحْوَ رِوَايَةِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، كَذَلِكَ مَوْصُولًا وَرُوِي مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے یہ حدیث حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3807
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ أُذَاكِرُ عُمَرَ شَيْئًا مِنَ الصَّلَاةِ فَأَتَى عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: بَلَى قَالَ: أَشْهَدُ شَهَادَةَ اللهِ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي شَكٍّ مِنَ النُّقْصَانِ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَكُونَ فِي شَكٍّ مِنَ الزِّيَادَةِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ وَرَوَاهُ ⦗٤٧١⦘ أَيْضًا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحْرِ بْنِ كَثِيرٍ السَّقَّاءِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نماز کے کسی مسئلہ کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ اس دوران سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں! ضرور سنائیے۔ انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے کہ ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں کسی کمی کا شک ہوجائے تو وہ نماز کو اس ترتیب پر پڑھے کہ شک زیادہ میں ہوجائے۔“
حدیث نمبر: 3808
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي الْفَوَائِدِ الْكَبِيرِ لِأَبِي الْعَبَّاسِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ أنبأ جَعْفَرٌ أنبأ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ اثْنَتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ " جَعْفَرٌ هَذَا هُوَ ابْنُ عَوْفٍ، وَكَذَا كَانَ فِي الْأَصْلِ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو اپنی نماز کے متعلق شک پڑ جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ دو پڑھی ہیں یا تین، تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے۔“
حدیث نمبر: 3809
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي وَغَيْرُهُ قَالَا: ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَرْكَعْ رَكْعَةً يُحْسِنُ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ " رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ وَقَدْ وَقَفَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي الْمُوَطَّأِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد ہی نہ رہے کہ کتنی رکعتیں ہوئی ہیں، تین یا چار؟ تو وہ ایک رکعت ادا کرے، اس کے رکوع اور سجود کو اچھی طرح کرے پھر (آخر میں) دو سجدے کرے۔“
حدیث نمبر: 3810
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَوَخَّ الَّذِي يَظُنُّ أَنَّهُ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيُصَلِّهِ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ اپنی نماز میں سے جو بھول گیا اس پر سوچ بچار کر کے اپنی نماز کو مکمل کرے اور پھر آخر میں بیٹھے بیٹھے ہی (سلام سے پہلے) دو سجدے کر لے۔
حدیث نمبر: 3811
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ النِّسْيَانِ فِي الصَّلَاةِ يَقُولُ: " لِيَتَوَخَّ أَحَدُكُمُ الَّذِي يَظُنُّ أَنَّهُ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيُصَلِّهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب نماز میں نسیان کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے: اپنی نماز میں سے جس پر اسے یقین ہو اسی پر بنا کرتے ہوئے نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 3812
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَفِيفِ بْنِ عَمْرٍو السَّهْمِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَكَعْبَ الْأَحْبَارِ عَنِ الَّذِي يَشُكُّ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي أَثْلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَكِلَاهُمَا قَالَا: " فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً أُخْرَى وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ إِذَا صَلَّى ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اور کعب احبار رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے پتا ہی نہ چلے کہ اس نے کتنی رکعات ادا کی ہیں، تین یا چار؟ تو ان دونوں نے فرمایا کہ وہ کھڑا ہو کر ایک رکعت مزید پڑھے اور سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔