کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: سجدہ سہو اور سجدہ شکر سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز میں سہو (بھول) جانے سے آدمی کی نماز باطل نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3797
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو ایک بشر ہوں، میں بھی تمہاری طرح بھول جاتا ہوں، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ غور و فکر کرے، جو درستگی کے زیادہ قریب ہو اس پر نماز مکمل کر لے اور (آخر میں) دو سجدے کر لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3797
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 401»
حدیث نمبر: 3798
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَّسَ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آکر اس کو (نماز کے متعلق) شک میں مبتلا کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ لہٰذا جب تم میں سے کسی کے ساتھ ایسی صورت واقع ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3798
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 1232»
حدیث نمبر: 3799
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعُ النِّدَاءَ فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان کہی جائے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور اس کے لیے گوز کی آواز ہوتی ہے، اتنی دور بھاگتا ہے کہ اس کو آواز سنائی نہ دے۔ پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ جاتا ہے۔ جب اقامت ختم ہو جاتی ہے تو پھر پلٹ آتا ہے اور نمازی کے دل میں خیالات ڈالتا ہے حتیٰ کہ کہتا ہے: فلاں چیز یاد کرو، جو باتیں اس کو یاد نہیں ہوتیں وہ یاد دلاتا ہے۔ اس وقت آدمی کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار۔ (جب یہ صورت پیش آئے) تو نمازی بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3799
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 1222»