حدیث نمبر: 3753
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى " فَلَمْ يَسْجُدْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ﴿سورة النجم﴾ کی تلاوت کی تو آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3754
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي النَّجْمِ النَّاسُ مَعَهُ إِلَّا رَجُلَيْنِ أَرَادَا أَنْ يُشْهَرَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالرِّجْلَانِ لَا يَدَعَانِ إِنْ شَاءَ اللهُ الْفَرْضَ وَلَوْ تَرَكَاهُ أَمْرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَتِهِ، وَأَمَّا حَدِيثُ زَيْدٍ فَهُوَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّ زَيْدًا لَمْ يَسْجُدْ، وَهُوَ الْقَارِئُ فَلَمْ يَسْجُدِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَكُنْ فَرْضًا فَيَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ، وَاحْتُجَّ بِمَا مَضَى مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَرْضِ خَمْسِ صَلَوَاتٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: " لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سورہ نجم میں سجدہ کیا اور آپ ﷺ کے ساتھ دو آدمیوں کے علاوہ باقی سب لوگوں نے سجدہ کیا۔ وہ دونوں مشہور ہیں۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: وہ دو مرد فرض کو تو نہیں چھوڑ سکتے تھے، اگر انہوں نے اس کو چھوڑ بھی دیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے اعادے کا حکم ضرور دیا ہوگا۔
اور رہی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حدیث تو حضرت زید رضی اللہ عنہ پڑھنے والے تھے۔ جب قاری نے سجدہ نہیں کیا تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نہیں کیا اور اگر فرض ہوتا تو رسول اللہ ﷺ انہیں بھی سجدہ کرنے کا حکم دیتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے پانچ نمازوں کی فرضیت کے بارے میں نبی ﷺ کی گزشتہ حدیث سے استدلال کیا ہے، جس میں ایک شخص نے پوچھا تھا کہ (ان پانچ نمازوں کے علاوہ) کوئی اور نماز بھی فرض ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی عبادت کرے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: وہ دو مرد فرض کو تو نہیں چھوڑ سکتے تھے، اگر انہوں نے اس کو چھوڑ بھی دیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے اعادے کا حکم ضرور دیا ہوگا۔
اور رہی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حدیث تو حضرت زید رضی اللہ عنہ پڑھنے والے تھے۔ جب قاری نے سجدہ نہیں کیا تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نہیں کیا اور اگر فرض ہوتا تو رسول اللہ ﷺ انہیں بھی سجدہ کرنے کا حکم دیتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے پانچ نمازوں کی فرضیت کے بارے میں نبی ﷺ کی گزشتہ حدیث سے استدلال کیا ہے، جس میں ایک شخص نے پوچھا تھا کہ (ان پانچ نمازوں کے علاوہ) کوئی اور نماز بھی فرض ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی عبادت کرے۔“
حدیث نمبر: 3755
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عُثْمَانَ التَّيْمِيَّ، أَخْبَرَهُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سُورَةَ النَّحْلِ حَتَّى إِذَا جَاءَتِ السَّجْدَةُ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ قَرَأَ بِهَا حَتَّى إِذَا جَاءَتِ السَّجْدَةُ قَالَ: " يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا لَمْ نُؤْمَرْ بِالسُّجُودِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ أَصَابَ، وَأَحْسَنَ وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ قَالَ: وَلَمْ يَسْجُدْ عُمَرُ " قَالَ: وَزَادَ نَافِعٌ: إِنَّ رَبَّكَ لَمْ يَفْرِضْ عَلَيْنَا السُّجُودَ إِلَّا أَنْ نَشَاءُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَادَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَفْرِضِ السُّجُودَ إِلَّا أَنْ نَشَاءَ، وَشَاهِدُهُ الْمُرْسَلُ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ربیع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن (منبر پر) سورہ نحل کی تلاوت کی۔ جب سجدے کی آیت ﴿وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾ [سورة النحل: 49] آئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ دوسرے جمعہ کو پھر یہی سورت پڑھی، جب سجدے کی آیت پر پہنچے تو فرمایا: اے لوگو! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے چلے جاتے ہیں، پھر جو کوئی سجدہ کر لے اس نے اچھا کیا اور درستگی کو پہنچا اور جو کوئی سجدہ نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا۔ سیدنا نافع رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ تمہارے رب نے ہم پر سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا بلکہ ہماری منشا پر چھوڑ دیا۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ کی سند سے ہے۔ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ سیدنا نافع رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ اللہ نے تلاوت کے سجدوں کو ہم پر فرض تو قرار نہیں دیا مگر یہ کہ ہم چاہیں تو کر لیں۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ کی سند سے ہے۔ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ سیدنا نافع رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ اللہ نے تلاوت کے سجدوں کو ہم پر فرض تو قرار نہیں دیا مگر یہ کہ ہم چاہیں تو کر لیں۔
حدیث نمبر: 3756
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ السَّجْدَةَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى فَتَهَيَّئُوا لِلسُّجُودِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَلَى رِسْلِكُمْ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكْتُبْهَا عَلَيْنَا إِلَّا أَنْ نَشَاءَ، فَقَرَأَهَا وَلَمْ يَسْجُدْ، وَمَنَعَهُمْ أَنْ يَسْجُدُوا قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقِيلَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: الرَّجُلُ يَسْمَعُ السَّجْدَةَ وَلَمْ يَجْلِسْ لَهَا قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ قَعَدَ لَهَا كَأَنَّهُ لَا يُوجِبُهُ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر آیت سجدہ پڑھی تو منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔ انہوں نے پھر دوسرے جمعہ یہی آیت سجدہ تلاوت کی، لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہوئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ذرا ٹھہرو، اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ سجدے فرض نہیں کیے بلکہ یہ ہماری منشا پر موقوف ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آیت سجدہ پڑھی لیکن سجدہ نہیں کیا اور لوگوں کو بھی سجدے سے روک دیا۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ کوئی آدمی آیت سجدہ سن لیتا ہے حالانکہ وہ اس کو سننے کے لیے نہیں بیٹھا تھا تو کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا: پھر تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسی کے لیے بیٹھا ہو تو پھر؟ گویا وہ اس پر واجب نہیں کر رہے تھے۔
(ج) ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے قرآن کے سجدوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کا حق ہے اسے تم ادا کر دو یا ایک نفلی عبادت ہے جسے تم نفلی ہی رکھو اور جو بھی مسلمان اللہ کے لیے ایک بھی سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے یا اللہ تعالیٰ دونوں چیزوں کو جمع کر دیتا ہے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ کوئی آدمی آیت سجدہ سن لیتا ہے حالانکہ وہ اس کو سننے کے لیے نہیں بیٹھا تھا تو کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا: پھر تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسی کے لیے بیٹھا ہو تو پھر؟ گویا وہ اس پر واجب نہیں کر رہے تھے۔
(ج) ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے قرآن کے سجدوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کا حق ہے اسے تم ادا کر دو یا ایک نفلی عبادت ہے جسے تم نفلی ہی رکھو اور جو بھی مسلمان اللہ کے لیے ایک بھی سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے یا اللہ تعالیٰ دونوں چیزوں کو جمع کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 3757
وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ سُجُودِ الْقُرْآنِ فَقَالَتْ: " حَقُّ اللهِ تُؤَدِّيهِ أَوْ تَطَوُّعٌ تَطَوَّعُهُ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً أَوْ جَمَعَهُمَا لَهُ كِلْتَيْهِمَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ”کشمش اور خشک کھجوروں کو، نیز کچی کھجوروں اور پکی کھجوروں کو (ایک ساتھ ملا کر بھگونے)“ سے منع فرمایا ہے۔