حدیث نمبر: 3739
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنِ السُّجُودِ فِي ص فَقَالَ: " لَيْسَ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورہ ﴿ص﴾ [سورة ص: 1] میں سجدے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: سورہ ﴿ص﴾ ان سورتوں میں سے نہیں ہے جن میں سجدہ کرنا فرض ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ سورہ ﴿ص﴾ میں سجدہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3740
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ بِمِصْرَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ص وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا آخَرَ قَرَأَهَا، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَهَيَّأَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنْ رَأَيْتُكُمْ تَهَيَّأْتُمْ لِلسُّجُودِ " فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا " ⦗٤٥٢⦘ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] پڑھی، جب آیتِ سجدہ پر پہنچے تو منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر ایک دوسرے دن آپ ﷺ نے ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] تلاوت کی اور جب آیتِ سجدہ پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو ایک نبی کی توبہ ہے لیکن میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم سجدہ کے لیے تیار ہو چکے ہو۔“ پھر آپ ﷺ (منبر سے) نیچے اترے اور سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 3741
وَفِيمَا رَوَى الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِتَوْبَةٍ وَنَسْجُدُهَا نَحْنُ شُكْرًا " يَعْنِي ص أَخْبَرَنَاهُ الْإِمَامُ الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْمُقْرِئِ، ثنا جَدِّي، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلًا، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَوْصُولًا وَلَيْسَ بِقَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن ذر رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سجدہ داؤد علیہ السلام نے توبہ کے لیے کیا تھا اور ہم یہ سجدہ شکر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 3742
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ فِي ص تَوْبَةُ نَبِيٍّ ذُكِرَتْ " قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى {أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ} [الأنعام: ٩٠].
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورہ صٓ میں جو سجدہ مذکور ہے وہ ایک نبی علیہ السلام کی توبہ ہے۔ مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] ”یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے، پس آپ ان کی ہدایت کی اقتدا کرو۔“
حدیث نمبر: 3743
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَسْجُدُ فِي ص وَيَقُولُ إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ " قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ زِرٍّ هُوَ ابْنُ حُبَيْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ لَا يَسْجُدُ فِي ص وَرُوِّينَا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسْجُدُونَ فِي ص.
حافظ ثناء اللہ
(الف) حضرت زر بن حبیش رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے: یہ تو ایک نبی کی توبہ ہے۔
(ب) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ نہیں کرتے تھے۔
(ج) صحابہ رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد سے ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ حضرات ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
(ب) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ نہیں کرتے تھے۔
(ج) صحابہ رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد سے ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ حضرات ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3744
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ ⦗٤٥٣⦘ مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنِ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص فَنَزَلَ فَسَجَدَ، ثُمَّ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے منبر پر سورہ ﴿ص﴾ [سورة ص: 1] پڑھی، جب آیت سجدہ پر پہنچے تو منبر سے اتر کر سجدہ کیا، پھر منبر پر تشریف لے گئے۔
حدیث نمبر: 3745
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَلِيٌّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ " أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ ص عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منبر پر سورت ص پڑھی تو اتر کر سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 3746
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ السُّجُودِ فِي ص فَقَالَ: {أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ} [الأنعام: ٩٠].
حافظ ثناء اللہ
حضرت مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورہ ص میں سجدہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] ”یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، لہٰذا آپ ان کی ہدایت کی اقتدا کرو۔“
حدیث نمبر: 3747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِنْدَارٌ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَوَّامِ قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ السَّجْدَةِ فِي ص، فَقَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: {أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ} [الأنعام: ٩٠] " وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْجُدُ فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت عوام رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے سورہ ص میں سجدے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] ”یہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں آپ ان کی ہدایت کی اقتدا کریں“ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس میں سجدہ کرتے تھے۔
(ب) حضرت مجاہد رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں: داؤد علیہ السلام بھی ان (ہدایت یافتہ) لوگوں میں سے تھے جن کی اقتدا کا حکم تمہارے نبی ﷺ کو دیا گیا ہے۔
(ب) حضرت مجاہد رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں: داؤد علیہ السلام بھی ان (ہدایت یافتہ) لوگوں میں سے تھے جن کی اقتدا کا حکم تمہارے نبی ﷺ کو دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 3748
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ بِنْدَارٍ وَزَادَ فِيهِ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فَكَانَ دَاوُدُ مِمَّنْ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ " أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِمَا دُونَ فِعْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ بِزَيَادَتِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے یہی روایت منقول ہے لیکن اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عمل منقول نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3749
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ الْبَخْتَرِيِّ الْحِنَّائِيُّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ أَسَجَدُ فِي ص؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَقَالَ لِي: اسْجُدْ فِيهَا فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {" أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ "} [الأنعام: ٩٠] كَذَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، وَيُذْكَرُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " فِي ص سَجْدَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے فرمایا: ”کیا تم سورہ صٓ میں سجدہ کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”اس میں سجدہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] ”یہ اللہ کے ہدایت یافتہ لوگ ہیں۔ آپ ان کی ہدایت کی اقتدا کرو۔“” اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا۔ ایک دوسری روایت میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ سورہ صٓ میں سجدہ ہے۔
حدیث نمبر: 3750
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي أَقْرَأُ سُورَةَ ص، فَلَمَّا أَتَيْتُ عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدَ كُلُّ شَيْءٍ رَأَيْتُ، الدَّوَاةُ وَالْقَلَمُ وَاللَّوْحُ، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَمَرَ بِالسُّجُودِ فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] پڑھ رہا ہوں۔ جب میں سجدہ والی آیت پر پہنچا تو ہر چیز سجدے میں گر گئی، حتیٰ کہ میں نے دوات، قلم اور لوح کو بھی سجدہ ریز دیکھا۔ صبح میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں بتایا تو آپ ﷺ نے اس میں سجدہ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔
حدیث نمبر: 3751
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ⦗٤٥٤⦘ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ: يَا حَسَنُ، حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ، فَقَرَأْتُ ص فَلَمَّا أَتَيْتُ عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ بِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ: اللهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ ذِكْرًا، وَاجْعَلْ لِي بِهَا عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَأَعْظِمْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا " قَالَ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ ص فَلَمَّا أَتَى عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ مَا أَخْبَرَ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ " بِسُجُودِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! گزشتہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا تو دورانِ نماز میں نے ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 24] کی قراءت کی، جب میں سجدہ والی آیت پر پہنچا تو میں نے سجدہ کیا اور درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، میں نے اس درخت کو سجدے میں یہ دعا پڑھتے سنا: «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَأَعْظِمْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا» ”اے اللہ! اس سجدہ کے بدلے میرے لیے اپنے ہاں اجر لکھ دے اور اس کے ذریعے مجھ سے گناہوں کا بوجھ اتار دے اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے اور اس کا میرے لیے اپنے پاس سے بہت بڑا اجر بنا کر رکھ۔““ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 24] پڑھی جب آیتِ سجدہ پر پہنچے تو سجدہ کیا اور آپ ﷺ کو میں نے سجدے میں وہی دعا کرتے سنا جو اس شخص نے درخت کے بارے میں بتایا۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی ہے مگر اس میں «بِسُجُودِي» کا لفظ نہیں ہے۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی ہے مگر اس میں «بِسُجُودِي» کا لفظ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3752
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الدُّعَاءِ: " اللهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ " وَلَمْ يَقُلْ ص إِنَّمَا قَالَ: فَرَأَيْتُ كَأَنِّي قَرَأْتُ سَجْدَةً فَسَجَدَتُ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ: كَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ يُصَلِّي بِنَا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَكَانَ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ فَيَسْجُدُ فَيُطِيلُ السُّجُودَ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَيَقُولُ: قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ بِهَذَا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں: «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي عِنْدَكَ بِهَا أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ» ”اے اللہ! اس سجدے کے بدلے میں میرے لیے اپنے ہاں اجر لکھ دے اور اس کے ذریعے مجھ سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے اور اسے مجھ سے اس طرح قبول فرما جس طرح تو نے اپنے بندے حضرت داؤد (علیہ السلام) سے قبول کیا تھا۔“ انھوں نے سورہ صٓ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف اتنا کہا: میں نے دیکھا کہ میں نے سجدے والی آیت پڑھی تو میں نے سجدہ کیا۔
(ب) اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت محمد بن یزید بن خنیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ نے ہمیں رمضان المبارک کے مہینے میں مسجد حرام میں نماز پڑھائی۔ وہ سجدے والی آیت پڑھتے تو سجدہ کرتے تھے اور سجدے کو لمبا کرتے تھے۔ انھیں اس بارے میں کہا گیا تو انھوں نے فرمایا: مجھے حضرت ابن جریج رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے تیرے دادا حضرت عبیداللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ نے اس بارے میں خبر دی۔
(ب) اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت محمد بن یزید بن خنیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ نے ہمیں رمضان المبارک کے مہینے میں مسجد حرام میں نماز پڑھائی۔ وہ سجدے والی آیت پڑھتے تو سجدہ کرتے تھے اور سجدے کو لمبا کرتے تھے۔ انھیں اس بارے میں کہا گیا تو انھوں نے فرمایا: مجھے حضرت ابن جریج رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے تیرے دادا حضرت عبیداللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ نے اس بارے میں خبر دی۔