کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جب رکوع اور سجدے سے عاجز ہو تو اشارے سے ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3669
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ ⦗٤٣٥⦘ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ مَرِيضًا فَرَآهُ يُصَلِّي عَلَى وِسَادَةٍ فَأَخَذَهَا فَرَمَى بِهَا، فَأَخَذَ عُودًا لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ فَرَمَى بِهِ وَقَالَ: " صَلِّ عَلَى الْأَرْضِ إِنِ اسْتَطَعْتَ وَإِلَّا فَأَوْمِ إِيمَاءً وَاجْعَلْ سُجُودَكَ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِكَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ وَهَذَا الْحَدِيثُ يُعَدُّ فِي إِفْرَادِ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مریض کی عیادت کی تو دیکھا کہ وہ تکیے پر نماز پڑھ رہا ہے، آپ ﷺ نے وہ تکیہ لے کر پھینک دیا، پھر اس نے ایک لکڑی پکڑ لی تاکہ اس پر نماز پڑھے، آپ ﷺ نے اس سے وہ لکڑی بھی لے کر پھینک دی اور فرمایا: ”اگر طاقت ہو تو زمین پر نماز پڑھ اور اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو اشارہ کر لے اور اپنے سجدوں کو رکوع سے نیچا رکھ۔“
حدیث نمبر: 3670
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ مَرِيضًا فَرَآهُ يُصَلِّي عَلَى وِسَادَةٍ فَأَخَذَهَا فَرَمَى بِهَا، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " صَلِّ بِالْأَرْضِ إِنِ اسْتَطَعْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مریض کی عیادت کی تو دیکھا کہ وہ تکیے پر نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے تکیہ پکڑ کر پھینک دیا ۔۔۔ بقیہ حدیث اسی طرح ہے، صرف اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زمین پر نماز پڑھ اگر تو طاقت رکھتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3671
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: " إِذَا لَمْ يَسْتَطِعِ الْمَرِيضُ السُّجُودَ أَوْمَأَ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً، وَلَمْ يَرْفَعْ إِلَى جَبْهَتِهِ شَيْئًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جِمَاعَةٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا، وَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: جب مریض سجدہ کرنے کی طاقت نہ رکھے تو اپنے سر سے اشارہ کر لیا کرے اور اپنی پیشانی تک کوئی چیز نہ اٹھائے۔
حدیث نمبر: 3672
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ، وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمِرْوَحَةِ، فَقَالَ: لَا تَتَّخِذْ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وقَالَ: لَا تَتَّخِذْ لِلَّهِ أَنْدَادًا صَلِّ قَاعِدًا وَاسْجُدْ عَلَى الْأَرْضِ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِ إِيمَاءً، وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جبلہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے تکیے پر نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا، میں بھی سن رہا تھا، انہوں نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ یا فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک نہ بناؤ اور بیٹھ کر نماز پڑھو اور زمین پر سجدہ کرو۔ اگر اس کی ہمت نہ ہو تو اشارے سے رکوع و سجود کرو اور سجدوں میں رکوع سے زیادہ نیچے جھکو۔
حدیث نمبر: 3673
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ عَلَى أَخِيهِ عُتْبَةَ نَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَرَأَى مَعَ أَخِيهِ مِرْوَحَةً يَسْجُدُ عَلَيْهَا، فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ عَبْدُ اللهِ، وَقَالَ: اسْجُدْ عَلَى الْأَرْضِ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِ إِيمَاءً وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت علقمہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے بھائی حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ بیمار تھے، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کو تکیے پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اس کو کھینچ لیا اور فرمایا: زمین پر سجدہ کرو، اگر اس کی قدرت نہ ہو تو اشارہ کر لو اور سجدوں کو رکوع سے پست رکھو۔