حدیث نمبر: 3582
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورِهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وَضُوءَهَا، وَخُشُوعَهَا، وَرُكُوعَهَا إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً، وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے اپنے والد کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا، انہوں نے وضو کے لیے پانی وغیرہ منگوایا تو فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان پر فرض نماز کا وقت آجائے تو وہ اچھی طرح وضو کرے اور نماز کے خشوع و خضوع کو بھی اچھے طریقے سے سر انجام دے تو یہ اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا، جب تک وہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کرے اور یہ پوری زندگی کے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 3583
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: " يَا فُلَانُ أَلَا تُحْسِنُ صَلَاتَكَ؟ أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّى كَيْفَ يُصَلِّي فَإِنَّمَا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ، إِنِّي وَاللهِ لَأُبْصِرُ مَنْ وَرَائِي كَمَا أُبْصِرُ مَنْ بَيْنِ يَدِيَّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”اے فلاں! تو نماز کو اچھی طرح کیوں نہیں ادا کرتا؟ کیا تو نہیں دیکھتا کہ نمازی نماز کس طرح پڑھتا ہے؟ وہ اپنے لیے نماز پڑھتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 3584
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي الْهَجَرِيَّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحْسَنَ الصَّلَاةَ حَيْثُ يَرَاهُ النَّاسُ، وَأَسَاءَهَا حَيْثُ يَخْلُو فَتِلْكَ اسْتِهَانَةٌ يَسْتَهِينُ بِهَا رَبَّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز اچھی طرح پڑھے اور تنہائی میں اچھی طرح ادا نہ کرے تو یہ اپنے رب کی توہین وتضحیک ہے۔“
حدیث نمبر: 3585
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَشِرْكَ السَّرَائِرِ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا شِرْكُ السَّرَائِرِ؟ قَالَ: " يَقُومُ الرَّجُلُ فَيُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ جَاهِدًا؛ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ النَّاسِ إِلَيْهِ فَذَاكَ شِرْكُ السَّرَائِرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! پوشیدہ شرک سے بچ جاؤ۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پوشیدہ شرک کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو اور نماز کو خوبصورت بنانے کی کوشش کرے تاکہ لوگ اسے دیکھیں، یہی پوشیدہ شرک ہے۔“
حدیث نمبر: 3586
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نَصْرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: " الصَّلَاةُ مِكْيَالٌ فَمَنْ وَفَّى أُوفِيَ لَهُ، وَمَنْ نَقَصَ فَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا قِيلَ لِلْمُطَفِّفِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”نماز ترازو ہے، جو اس کو پورا پورا ادا کرے گا اس کو پورا پورا اجر دیا جائے گا اور جو کمی کرے گا تو تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے بارے میں کیا کچھ کہا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3587
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے اسی کے ہم معنی روایت مروی ہے۔