کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: چھینک کے وقت بہت زیادہ آواز بلند کرنے کی کراہت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ غَضَّ صَوْتَهُ وَخَمَّرَ وَجْهَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب چھینک لیتے تو اپنی آواز کو پست کر لیتے اور اپنا چہرہ مبارک ڈھانپ لیتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي سُمَيٌّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ أَمْسَكَ يَدَهُ أَوْ ثَوْبَهُ عَلَى فِيهِ ثُمَّ خَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو چھینک آتی تو ”اپنا ہاتھ یا کپڑا منہ مبارک پر رکھتے اور پست آواز سے چھینک مارتے۔“
وَرَوَى يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ " رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ الْعَطْسَةَ الشَّدِيدَةَ فِي الْمَسْجِدِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ الْمَنْبِجِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفٌ وَوَالِدُهُ يَزِيدُ ضَعِيفٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں زور سے چھینک مارنے کو ناپسند قرار دیتے تھے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس مسئلہ کی وضاحت کے لیے پہلی حدیث ہی کافی ہے۔
ابواحمد (ابن عدی) نے کہا: یحییٰ بن یزید ضعیف ہے اور اس کا والد یزید بھی ضعیف ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس مسئلہ کی وضاحت کے لیے پہلی حدیث ہی کافی ہے۔
ابواحمد (ابن عدی) نے کہا: یحییٰ بن یزید ضعیف ہے اور اس کا والد یزید بھی ضعیف ہے۔