کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: چھینک کے وقت بہت زیادہ آواز بلند کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3579
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ غَضَّ صَوْتَهُ وَخَمَّرَ وَجْهَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب چھینک لیتے تو اپنی آواز کو پست کر لیتے اور آپ ﷺ کا چہرہ انور سرخ ہو جاتا۔
حدیث نمبر: 3580
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي سُمَيٌّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ أَمْسَكَ يَدَهُ أَوْ ثَوْبَهُ عَلَى فِيهِ ثُمَّ خَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو چھینک آتی تو ”اپنا ہاتھ یا کپڑا منہ مبارک پر رکھتے اور پست آواز سے چھینک مارتے۔“
حدیث نمبر: 3581
وَرَوَى يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ " رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ الْعَطْسَةَ الشَّدِيدَةَ فِي الْمَسْجِدِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ الْمَنْبِجِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفٌ وَوَالِدُهُ يَزِيدُ ضَعِيفٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں زور سے چھینک مارنے کو ناپسند قرار دیتے تھے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس مسئلہ کی وضاحت کے لیے پہلی حدیث ہی کافی ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس مسئلہ کی وضاحت کے لیے پہلی حدیث ہی کافی ہے۔