کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ”ان کی پہچان ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان سے ہے“ کے بیان میں
حدیث نمبر: 3555
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ} [الفتح: ٢٩] قَالَ: " السَّمْتُ الْحَسَنُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ [سورة الفتح: 29] ”ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے اثر سے ہے“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد خوبصورتی اور حسن ہے۔
حدیث نمبر: 3556
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيِّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْعُمَرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا حَاضِنُكَ فُلَانٌ، وَرَأَى بَيْنَ عَيْنَيْهِ سَجْدَةً سَوْدَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْأَثَرُ بَيْنَ عَيْنَيْكَ فَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَهَلْ تَرَى هَاهُنَا مِنْ شَيْءٍ؟.
حافظ ثناء اللہ
ابونضر سالم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آکر سلام کہا، انہوں نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ اس نے کہا: ”میں تمہاری پرورش کرنے والا فلاں شخص ہوں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی آنکھوں کے درمیان سیاہ رنگ کا نشان دیکھا تو پوچھا: ”یہ تمہاری آنکھوں کے درمیان نشان کیسا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی صحبت اختیار کی ہے، کیا تو نے وہاں بھی کوئی چیز دیکھی؟“
حدیث نمبر: 3557
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ رَأَى أَثَرًا، فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللهِ إِنَّ صُورَةَ الرَّجُلِ وَجْهُهُ فَلَا تَشِنْ صُورَتَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوشعثاء رضی اللہ عنہ پر سجدے کا نشان دیکھا تو فرمایا: اے اللہ کے بندے! آدمی کی صورت اس کا چہرہ ہوتا ہے، اس کو عیب دار مت بنا۔
حدیث نمبر: 3558
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: رَأَى أَبُو الدَّرْدَاءِ امْرَأَةً بِوَجْهِهَا أَثَرٌ مِثْلُ ثَفِنَةِ الْعَنْزِ، فَقَالَ: " لَوْ لَمْ يَكُنْ هَذَا بِوَجْهِكِ كَانَ خَيْرًا لَكِ " وَرُوِّينَا عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَنْكَرَهُ وَقَالَ: " وَاللهُ مَا هِيَ سِيمَاءُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عون بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کے چہرے میں بکری کے گھٹنے کی طرح نشان دیکھا تو فرمایا: اگر تیرے چہرے میں یہ نشان نہ ہوتا تو تیرے لیے بہت اچھا تھا۔
(ب) سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اس کو صحیح نہ سمجھا اور کہا: اللہ کی قسم یہ نشان علامت نہیں ہے۔
(ب) سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اس کو صحیح نہ سمجھا اور کہا: اللہ کی قسم یہ نشان علامت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3559
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ الْمِهْرَجَانِيُّ أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُمَيْدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ إِذْ جَاءَهُ الزُّبَيْرُ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ: " قَدْ أَفْسَدَ وَجْهَهُ وَاللهِ مَا هِيَ سِيمَاءُ وَاللهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ عَلَى وَجْهِي مُذْ كَذَا وَكَذَا مَا أَثَّرَ السُّجُودُ فِي وَجْهِي شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، اچانک ان کے پاس زبیر بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا: اس نے اپنا چہرہ خراب کر دیا ہے۔ اللہ کی قسم! یہ (وہ) نشان نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے اتنی اتنی نمازیں پڑھیں، لیکن میرے چہرے میں سجدوں نے کوئی نشان نہیں چھوڑا۔
حدیث نمبر: 3560
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ فَضْلٍ الضَّبِّيُّ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ {سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ} [الفتح: ٢٩] أَهُوَ أَثَرُ السُّجُودِ فِي وَجْهِ الْإِنْسَانِ؟ فَقَالَ: " لَا إِنَّ أَحَدَهُمْ يَكُونُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مِثْلُ رُكْبَةِ الْعَنْزِ وَهُوَ كَمَا شَاءَ اللهُ، يَعْنِي مِنَ الشَّرِّ، لَكِنَّهُ الْخُشُوعُ ".
حافظ ثناء اللہ
منصور رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے ﴿سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ [سورة الفتح: 29] ”ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کی وجہ سے ہے“ کے متعلق پوچھا: کیا اس سے مراد انسان کے چہرے میں سجدوں کے نشانات ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں! تم میں سے کسی کی آنکھوں کے درمیان بکری کے گھٹنے کی طرح کوئی چیز ہو تو وہ جس طرح کہ اللہ چاہتا ہے شر ہوگا، لیکن وہ خشوع کی وجہ سے ہوگا۔
(ب) سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ شبنم کا پاک ہونا اور زمین کا گیلا ہونا۔
(ب) سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ شبنم کا پاک ہونا اور زمین کا گیلا ہونا۔