کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نماز میں پیش آنے والے کسی معاملے میں اشارہ کرنا جب اس سے سمجھانا مقصود ہو
حدیث نمبر: 3413
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي مَرَضِهِ وَهُوَ جَالِسٌ وَخَلْفَهُ قِيَامٌ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری کے ایام میں بیٹھ کر نماز ادا کی، صحابہ نے بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی تو آپ نے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام صرف اسی لیے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور وہ جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
حدیث نمبر: 3414
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَمَّادٌ: عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنِ اجْلِسُوا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، وَرَوَيَاهُ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: " فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) دوسری سند سے بھی یہی حدیث منقول ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس قصے کو نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں کھڑے دیکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔“
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس قصے کو نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں کھڑے دیکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔“
حدیث نمبر: 3415
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا " وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں تک آپ ﷺ کی تکبیر پہنچانے کے لیے آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے تکبیر کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 3416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَأَنَّهُمْ رَدُّوهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ⦗٣٧١⦘ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةُ فَقُلْتُ: قَوْمِي لِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلْتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانَا أُنَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے انہیں نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا۔۔۔ پھر انہوں نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا: انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا۔ پس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں رکعتوں کو نماز عصر کے بعد پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے لیکن میں نے آپ ﷺ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے نماز عصر پڑھی اور میرے پاس تشریف لائے، اس وقت انصار میں سے بنو حرام کی چند عورتیں بھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، آپ ﷺ نے ان دو رکعتوں کو پڑھا تو میں نے ایک لڑکی کو آپ ﷺ کے پاس بھیجا اور اسے آپ ﷺ کی ایک طرف کھڑے ہونے کے لیے کہا اور کہا کہ آپ انہیں بتائیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہہ رہی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو ان دو رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا اور اب آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ اگر آپ ﷺ نے اشارہ کیا تو پیچھے ہٹ جانا۔ اس لڑکی نے ویسے ہی کیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ آپ ﷺ سے دور ہوگئی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابو امیہ کی بیٹی! تم نے نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق دریافت کیا ہے۔ یہ اس لیے کہ قبیلہ عبدالقیس کے لوگ میرے پاس آئے تھے، انہوں نے اپنی قوم کے اسلام کے متعلق بتایا اور انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتوں سے مصروف رکھا۔ یہ دو رکعتیں وہی ہیں۔“
حدیث نمبر: 3417
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي صَلَاةٍ بِيَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کرلیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3418
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَخُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالُوا: أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں ہاتھ سے اشارہ کرلیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3419
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ، قَالَتْ، فَقُلْتُ: مَا لِلنَّاسِ؟ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا تو میں نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، لوگ نماز پڑھ رہے تھے، میں بھی کھڑی تھی، میں نے کہا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟“ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا۔ میں نے پوچھا: ”کیا کوئی نشانی ہے؟“ انہوں نے اشارے سے کہا: ”ہاں“۔
حدیث نمبر: 3420
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ الْمُرِّيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسْوَانِ، وَمَنْ أَشَارَ فِي صَلَاتِهِ إِشَارَةً تُفْهَمُ عَنْهُ فَلْيُعِدْهَا " قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ لَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ: أَبُو غَطَفَانَ: هَذَا رَجُلٌ مَجْهُولٌ وَآخِرُ الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ ⦗٣٧٢⦘ فِي الْحَدِيثِ فَلَعَلَّهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَالصَّحِيحُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ رَوَاهُ أَنَسٌ وَجَابِرٌ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ: وَرَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مردوں کے لیے نماز میں «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہنا ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔ جو شخص نماز میں ایسا اشارہ کرے جس کا کوئی مفہوم تو اشارہ کرنے والا نماز کو لوٹائے۔“
نبی ﷺ سے منقول صحیح حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نماز میں اشارہ کر لیا کرتے تھے۔
نبی ﷺ سے منقول صحیح حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نماز میں اشارہ کر لیا کرتے تھے۔