کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: نماز میں قرآن کی قراءت اور ذکر کا جواز جب اس سے مراد کسی کو جواب دینا یا متنبہ کرنا ہو
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى يَعْنِي حَكِيمَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ: نَادَى رَجُلٌ مِنَ الْغَالِينَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: {وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [الزمر: ٦٥] فَأَجَابَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ {فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ} [الروم: ٦٠].
حافظ ثناء اللہ
ابو یحییٰ حکیم بن سعد بیان کرتے ہیں کہ فجر کی نماز میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو غالی لوگوں میں سے ایک نے آواز دی اور آپ حالتِ نماز میں تھے، اس نے کہا: ﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [سورة الزمر: 65] ”یقیناً (اے نبی ﷺ) آپ کی طرف اور آپ سے پہلے والوں کی طرف وحی کی گئی اگر آپ نے شرک کا ارتکاب کیا تو یقیناً آپ کے اعمال برباد، ضائع اور خسارے میں ہوجائیں گے۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حالتِ نماز میں ہی اسے جواب دے دیا: ﴿فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ﴾ [سورة الروم: 60] ”تو صبر کر، بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے سچا ہے اور آپ کو یہ لوگ ہلکا نہ سمجھیں جو یقین نہیں رکھتے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3327
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 3/ 158»
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ عَبْدِ اللهِ فِي الْمَسْجِدِ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَرَكَعَ عَبْدُ اللهِ فَرَكَعْنَا مَعَهُ وَجَعَلَ يَمْشِي إِلَى الصَّفِّ وَنَحْنُ رُكُوعٌ فَمَرَّ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: مِنَ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ بِالْمَعْرِفَةِ وَأَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا وَأَنْ يَتَّجِرَ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُهُ وَأَنْ تَغْلُوَ الْخَيْلُ وَالنِّسَاءُ ثُمَّ يَرْخُصْنَ ثُمَّ لَا تَغْلُوَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَحَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ مُخْتَصَرٌ وَرُوِيَ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِنَحْوِهِ وَرَفَعَ آخِرَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) خارجہ بن صلت بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے اور امام صاحب رکوع میں تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (صف سے پیچھے ہی) رکوع کیا۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا اور آپ چلتے ہوئے صف میں شامل ہو گئے اور ہم رکوع میں ہی رہے۔ ایک آدمی گزرا، اس نے انہیں سلام کہا تو انہوں نے کہا: «صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔“ پھر جب انہوں نے نماز مکمل کی تو فرمایا: ”کہا جاتا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ آدمی کسی آدمی کو ذاتی معرفت کی بنا پر ہی سلام کرے گا اور مسجدوں کو راستہ بنا لیا جائے گا اور آدمی اور اس کی بیوی (مل کر) تجارت کریں گے اور گھوڑے اور عورتیں مہنگی ہو جائیں گی، پھر سستی ہو جائیں گی، پھر قیامت کے دن تک مہنگی نہیں ہوں گی۔“
(ب) طارق بن شہاب سے بواسطہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اسی جیسی منقول ہے اور انہوں نے اس کے آخری حصے کو نبی کریم ﷺ تک پہنچایا ہے۔ اس میں کچھ اضافہ اور کمی بھی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3328
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 4/ 493»