کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نمازی کا اپنی نماز کی جگہ پر دل میں اللہ تعالیٰ کے طویل ذکر کے لیے ٹھہرے رہنے کی ترغیب، اور اسی طرح امام کا رخ موڑنے کے بعد ٹھہرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3019
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَادَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثُ أَوْ يَقُمْ: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللهُمَّ ارْحَمْهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص نماز سے فارغ ہو کر اپنی جگہ بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک اس کا وضو نہ ٹوٹے یا وہ کھڑا نہ ہو جائے۔ فرشتے یہ دعا کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔“”
حدیث نمبر: 3020
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، تَقُولُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے تم میں سے اس شخص کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ پر بیٹھا رہتا ہے جہاں اس نے نماز ادا کی، فرشتے کہتے ہیں: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اَللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما“ جب تک وہ بے وضو نہ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 3021
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الطَّائِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو جَدِّي عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى، " يَعْنِي الصُّبْحَ، جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَزَادَ فِيهِ: حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا وَرَوَاهُ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ وَزَادَ فِيهِ: " فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ، وَلَمْ يَقُلْ حَسَنًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے تو اپنی جائے نماز پر ہی بیٹھے رہتے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جاتا۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یہ روایت ذکر کی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے: «حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا» ”یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔“
ابو خیثمہ رحمہ اللہ نے سماک سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس میں «فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ» ہی کہا ہے، «حَسَنًا» کی جگہ «قَامَ» کا لفظ ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یہ روایت ذکر کی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے: «حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا» ”یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔“
ابو خیثمہ رحمہ اللہ نے سماک سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس میں «فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ» ہی کہا ہے، «حَسَنًا» کی جگہ «قَامَ» کا لفظ ہے۔
حدیث نمبر: 3022
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ وَرْقَاءُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ قَالَ: " كَيْفَ ذَلِكَ؟ " قَالُوا: صَلُّوا كَمَا صَلَّيْنَا، وَجَاهَدُوا كَمَا جَاهَدْنَا، وَأَنْفَقُوا مِنْ فُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَمْرٍ تُدْرِكُونَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَتَسْبِقُونَ مَنْ جَاءَ بَعْدَكُمْ وَلَا يَأْتِي أَحَدٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتُمْ بِهِ إِلَّا مَنْ جَاءَ بِمِثْلِهِ، تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدُونَ عَشْرًا وَتُكَبِّرُونَ عَشْرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سُمَيٍّ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! دولت مند لوگوں نے بلند درجات حاصل کر لیے اور ہمیشہ کا سکون لوٹ لیا۔“ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“ ایک صحابی نے کہا کہ وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح جہاد کرتے ہیں، لیکن ان کے پاس مال کی فراوانی ہے جس سے وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں جب کہ ہمارے پاس مال نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس کی وجہ سے تم ان لوگوں کے مرتبوں کو پہنچ جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر گئے اور اپنے بعد والوں سے بھی سبقت لے جاؤ گے؟ پھر تمہارے مرتبے کو کوئی بھی نہ پہنچ سکے گا البتہ وہ شخص جو اس جیسا عمل لے کر آئے۔ تم ہر نماز کے بعد دس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ اور دس بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہو۔“
حدیث نمبر: 3023
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ هُوَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُمْ فُضُولٌ مِنْ أَمْوَالٍ يَحُجُّونَ بِهَا وَيَعْتَمِرُونَ وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَمْرٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ وَكُنْتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ بِمِثْلِ مَا عَمِلْتُمْ، تُسَبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتُكَبِّرُونَ خَلْفَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " قَالَ: فَاخْتَلَفْنَا بَيْنَنَا، فَقَالَ بَعْضُنَا: نُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " تَقُولُ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، حَتَّى يَكُونَ مِنْهُنَّ كُلِّهُنَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ النَّضْرِ، عَنِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محتاج و نادار لوگ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: دولت مند اور صاحبِ ثروت لوگوں نے سارے بلند درجے حاصل کر لیے اور ہمیشہ کا سکھ چین لوٹ لیا۔ وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں، روزے بھی ہماری طرح رکھتے ہیں، ان کے پاس مال بھی ہے جس کے ساتھ وہ حج کرتے ہیں اور عمرہ، جہاد اور صدقات ادا کرتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتلاؤں کہ اگر تم اس کو کرو گے تو آگے بڑھنے والوں کو پکڑ لو گے اور تم کو تمہارے پیچھے والا بھی نہیں پا سکے گا اور تم اپنے زمانے میں سب سے اچھے لوگ شمار ہو گے مگر وہ شخص جو تم جیسا عمل کرے؟ تم ہر نماز کے بعد تینتیس، تینتیس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھا کرو“۔ پھر لوگوں نے اس حدیث میں اختلاف کیا۔ لوگ کہنے لگے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ ۳۳ بار، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ ۳۳ بار اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ ۳۴ بار۔ راوی کہتے ہیں: میں ابو صالح کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ سب تینتیس تینتیس بار کہو۔
حدیث نمبر: 3024
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ وَالْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، فَقَالَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " قَالُوا: يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ قَالَ: " أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ ⦗٢٦٦⦘ بَعْدَكُمْ وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " تُسَبِّحُونَ اللهَ وَتُكَبِّرُونَ وَتَحْمَدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " قَالَ سُمَيٌّ: فَحَدَّثْتُ بَعْضَ أَهْلِي هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: وَهِمْتَ إِنَّمَا قَالَ: " تُسَبِّحُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي صَالِحٍ فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ فَأَخَذَ بِيَدِي وَقَالَ: تَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ حَتَّى يَبْلُغَ مِنْ جَمِيعِهِنَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ قَالَ أَبُو صَالِحٍ: ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: قَدْ سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الْأَمْوَالِ مَا قُلْتَ فَفَعَلُوا مِثْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ سِوَى قَوْلِ سُمَيٍّ، ثُمَّ قَالَ: وَزَادَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَدْرَجَ قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ فِي رُجُوعِ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ فِي الْحَدِيثِ وَزَادَ: يَقُولُ سُهَيْلٌ: إِحْدَى عَشْرَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثُونَ، وَلِسُهَيْلٍ فِيهِ إِسْنَادٌ آخَرُ بِزِيَادَةِ مَتْنٍ وَزِيَادَةِ عَدَدٍ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فقراء مہاجرین رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صاحبِ ثروت، مال دار لوگ دائمی نعمتوں اور بلند درجات کے ساتھ سبقت لے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”وہ کس طرح؟“ انہوں نے کہا: وہ ہماری طرح نمازیں پڑھتے ہیں، ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور وہ صدقات دیتے ہیں ہم نہیں دے سکتے، وہ غلام آزاد کرواتے ہیں؛ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ اگر تم اس کو کرو تو آگے بڑھنے والوں کو پکڑ لو گے اور اپنے سے پیچھے والوں سے بھی سبقت لے جاؤ گے؟ تم سے افضل کوئی نہ ہوگا مگر وہ شخص جو تمہارے والا عمل کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! ضرور بتلائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ تینتیس، تینتیس بار کہا کرو۔“
(ب) سمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے بعض احباب کو یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: تمہیں وہم ہو گیا ہے؛ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ 33 بار، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ 33 بار اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ 34 بار کہا کرو۔ میں ابوصالح رحمہ اللہ کے پاس گیا اور ان کے سامنے یہ بات بیان کی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ»، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ»، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» 33 بار کی تعداد کو پہنچ جائیں۔
ابوصالح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پھر فقراء مہاجرین (کچھ عرصہ بعد) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے دولت مند بھائیوں نے بھی یہ وظیفہ سن لیا ہے جو آپ نے ہمیں بتایا تھا اور وہ بھی اب یہ عمل کر رہے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۤءُ﴾ [سورة الجمعة: 4] یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے۔“
(ج) ابوسہیل رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اس میں فقراء مہاجرین کے دوبارہ آنے کے واقعہ کے بارے میں ابوصالح رحمہ اللہ کا مدرج کلام بھی ہے اور اضافہ بھی ہے۔ ابوسہیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ گیارہ گیارہ بار پڑھے اور یہ 33 بار ہو جائے گا۔
(ب) سمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے بعض احباب کو یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: تمہیں وہم ہو گیا ہے؛ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ 33 بار، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ 33 بار اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ 34 بار کہا کرو۔ میں ابوصالح رحمہ اللہ کے پاس گیا اور ان کے سامنے یہ بات بیان کی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ»، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ»، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» 33 بار کی تعداد کو پہنچ جائیں۔
ابوصالح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پھر فقراء مہاجرین (کچھ عرصہ بعد) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے دولت مند بھائیوں نے بھی یہ وظیفہ سن لیا ہے جو آپ نے ہمیں بتایا تھا اور وہ بھی اب یہ عمل کر رہے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۤءُ﴾ [سورة الجمعة: 4] یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے۔“
(ج) ابوسہیل رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اس میں فقراء مہاجرین کے دوبارہ آنے کے واقعہ کے بارے میں ابوصالح رحمہ اللہ کا مدرج کلام بھی ہے اور اضافہ بھی ہے۔ ابوسہیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ گیارہ گیارہ بار پڑھے اور یہ 33 بار ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 3025
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتِلْكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ " ثُمَّ قَالَ " تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمَلِكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ہر نماز کے بعد ۳۳ بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ»، ۳۳ بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور ۳۳ بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» پڑھے، یہ ننانوے ہو گئے اور سو مکمل کرنے کے لیے ایک بار «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اور تعریف اسی کے لیے سزاوار ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ پڑھے، اگر اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں گے تو بخش دیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 3026
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ⦗٢٦٧⦘ مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ أَوْ فَاعِلُهُنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ ایسی بھلائی والی چیزیں ہیں جن کو کرنے والا محروم نہیں رہتا، وہ یہ ہیں کہ ہر نماز کے بعد ۳۳ بار «سُبْحَانَ اللّٰہِ» ”سبحان اللہ“، ۳۳ بار «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» ”الحمد للہ“ اور ۳۴ بار «اَللّٰہُ اَکْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہے۔“
حدیث نمبر: 3027
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، ثنا عَثَّامٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ بِيَمِينِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دائیں ہاتھ پر تسبیح کرتے دیکھا۔